.

یمن: فوجی پریڈ پر خودکش بم حملہ، القاعدہ کے 5 ارکان کو سزائیں

کل گیارہ میں سے پانچ مجرمو کو 2 سے 10 سال تک جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے القاعدہ کے پانچ مشتبہ ارکان کو گذشتہ سال ایک فوجی پریڈ پر خودکش بم حملے کے الزام میں دس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

یمنی دارالحکومت صنعا میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے قائم اس عدالت نے دومدعاعلیہان کو خودکش حملے کی سازش میں قصوروار قرار دے کر دس ،دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔تیسرے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔باقی دو میں سے ایک کو عدالت نے تین سال اور دوسرے کو دوسال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت کے جج نے تین اور مدعاعلیہان کو ان کی جیل میں گزری ہوئی مدت کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے اور تین کو بری کردیا ہے۔ان تمام گیارہ ملزموں کے خلاف 21 مئی 2012ء کو ایک فوجی پریڈ کی ریہرسل کے دوران خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی میں حصہ لینے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔اس بم دھماکے میں چھیاسی یمنی فوجی ہلاک اور ایک سو اکہتر زخمی ہوگئے تھے۔

ملزموں پرعاید کردہ فرد جرم کے مطابق وہ خودکش بمبار ہیثم مفرح کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہے تھے۔عدالت کے جج ہلال المحفل جب ان کے خلاف فیصلہ پڑھ رہے تھے تو وہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہے تھے۔انھوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان میں سے سات سال کی سزا پانے والے ہشام الشارابی نے کہا کہ ''یہ حکم نہیں بلکہ جبر ہے۔میں القاعدہ نہیں ہوں''۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت میں ان کی والدہ بھی موجود تھیں۔انھوں نے سر سے پاؤں تک سیاہ رنگ کا برقع اوڑھ رکھا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''میرا بیٹا بے گناہ ہے۔وہ القاعدہ کو نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے''۔

القاعدہ کے ان مشتبہ ارکان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔جج نے دو سابق سکیورٹی چیفس سے ایک مرتبہ پھر اس کیس کے حوالے سے پوچھ گچھ کا حکم دیا ہے۔یمن کی سنٹرل سکیورٹی سروسز کے ان دونوں سابق سربراہوں کا تقرر سابق صدر علی عبداللہ صالح کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔

مارچ میں سنٹرل سکیورٹی سروسز کے سابق کمانڈر جنرل عبدالمالک التائب اور ان کے نائب جنرل یحییٰ محمد عبداللہ صالح نے اس خودکش بم دھماکے سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی۔جنرل مالک التائب کو بم دھماکے کے دن ہی برطرف کردیا گیا تھا اور جنرل یحییٰ کو دسمبر میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔وہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت جنوری میں شروع ہوئی تھی۔تب چوبیس سالہ ہشام الشارابی نے کہا تھا کہ ''یہ بم حملہ سیاسی تھا اور اس میں اعلیٰ عہدے دار ملوث تھے''۔تاہم القاعدہ نے اس بم حملے کے ذمے داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے وزیردفاع محمد ناصر احمد اور ان کے معاونین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بم حملے میں محفوظ رہے تھے۔