شام:باغیوں کا القاعدہ سے سرحدی قصبے سے انخلاء کا مطالبہ

شامی باغیوں کا القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کو پہلا مشترکہ سخت انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں صدر بشارالاسد کی مسلح افواج کے خلاف برسرپیکار چھے سرکردہ باغی گروپوں نے ایک مشترکہ بیان میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع قصبے اعزاز سے نکل جائیں۔

شام کے وسطی علاقے میں برسرپیکار باغیوں نے ایک الگ بیان میں ریاست اسلامی عراق اور شام سے وابستہ جنگجوؤں سے صوبہ حمص سے نکل جانے کا کہا ہے۔یہ دونوں بیانات اعزاز میں ریاست اسلامی کے جنگجوؤں اور باغیوں کے درمیان مسلح جھڑپوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔

ریاست اسلامی شام اور عراق کے سیکڑوں جنگجو اعزاز کے نزدیک ترکی کی سرحد پر واقع ایک چوکی کی جانب پیش قدمی کررہے تھے۔تین بڑے باغی گروپوں احرارالشام ،لواء التوحید اور جیش الشام نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں اور''ریاست اسلامی سے وابستہ اپنے بھائیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں اور گاڑیوں کو فوری طور پر اپنے مرکزی ہیڈکوارٹرز کی جانب لے جائیں''۔

بیان میں ریاست اسلامی کے جنگجوؤں اور باغیوں کی شمالی بریگیڈ کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے معاملے کو اسلامی عدالت کے سامنے پیش کریں جو حلب میں ارٹالیس گھنٹے کی سماعت کے بعد ان کے درمیان فیصلہ کردے گی۔

بیان پر دستخط کرنے والی دوسری تین تنظیموں کے نام سقر الشام ،فرقان بریگیڈز اور لواءالحق ہیں۔یہ تمام چھے تنظیمیں شامی حزب اختلاف کے مرکزی اتحاد یا ملک سے باہر کام کرنے والے کسی اور گروپ کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔

ان اسلام پسند مزاحمتی جنگی تنظیموں کے جنگجو شام بھر میں موجود ہیں اور وہ صدر بشارالاسد کی وفادار افواج سے برسرپیکار ہیں۔یہ تنظیمیں اب زیادہ سیاسی کردار کا بھی مطالبہ کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ القاعدہ سے وابستہ ریاست اسلامی عراق اور شام کے جنگجوؤں نے 18 ستمبر کو شمالی بریگیڈ کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اعزاز پر قبضہ کر لیا تھا۔اس قصبے میں لڑائی کے بعد ترک حکام نے سرحدی گذرگاہ باب السلامہ کو بند کردیا تھا۔اس قصبے پر قبضے کے ردعمل میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف شامی تنظیموں کا یہ پہلا سخت بیان ہے۔

درایں اثناء شام کے وسطی صوبے حمص کے شہر الرستن میں مختلف باغی گروپوں پر مشتمل فوجی کونسل نے الگ سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ریاست اسلامی عراق اور شام سے مطالبہ کیا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار صوبے کے شمالی حصے سے نکل جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں