طرابلس میں حملے کے بعد روسی سفارتی عملے کی تیونس منتقلی

لیبی دارالحکومت میں مشتعل افراد کے دھاوے کے بعد روسی سفارت خانے کی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں اپنے سفارت خانے پر حملے کے بعد تمام سفارتی عملے اور ان کے خاندانوں کو تیونس منتقل کردیا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سفارتی عملے کے انخلاء کا فیصلہ لیبیا کے وزیرخارجہ کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کے حکام سفارتی عملے کو تحفظ کی ضمانت دینے سے قاصر ہیں۔طرابلس میں تعینات روسی سفارتی عملہ اب جمعہ کو ماسکو روانہ ہوجائے گا۔

بدھ کی رات بیسیوں مشتعل مظاہرین نے طرابلس میں روسی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔انھیں یہ اطلاع ملی تھی کہ ایک روسی عورت نے لیبیا کے ایک فوجی افسر کو قتل کردیا ہے اور وہ اس واقعہ کے ردعمل میں احتجاج کررہے تھے ۔

لیبی حکام کے مطابق روسی سفارت خانے کے باہر احتجاج کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آورمارا گیا اور چار زخمی ہوگئے تھے۔مشتعل مظاہرین نے روسی سفارت خانے کی عمارت کی ایک بالکونی پر لگے روسی پرچم کو بھی اتار پھینکا تھا۔

فوجی افسر کے قتل کا واقعہ طرابلس کے علاقے سوق جمعہ میں رونما ہوا تھا اور اس کے دوروز بعد مشتعل لیبی مظاہرین نے روسی سفارت خانے پردھاوا بولا تھا۔اس فوجی افسر کے قتل کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک روسی عورت نے اس فوجی افسرکو ؁ 2011ء میں سابق صدر معمرقذافی کے خلاف مسلح عوامی بغاوت میں کردار پرقتل کیا ہے۔بعض دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ روسی عورت دراصل اس لیبی فوجی افسر کی بیوی تھی اور اس نے گھریلو تنازعے کی بنا پر اپنے خاوند کو قتل کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں