عمر البشیر حکومت چھوڑ دیں ورنہ طاقت سے ہٹائیں گے: حسن الترابی

پولیس کے کریک ڈاؤن میں کئی اپوزیشن رہ نما گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں اپوزیشن کے سرکردہ اسلام پسند لیڈر حسن الترابی نے کہا ہے کہ جب تک صدرعمرالبشیر کی حکومت ختم نہیں ہو جاتی، ان کی بغاوت کی تحریک جاری رہے گی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے حکومت مخالفین کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں اپوزیشن کے کئی سرکردہ لیڈر بھی شامل ہیں۔

سوڈان کی اپوزیشن جماعت "پیپلز کانگریس" کے سربراہ حسن الترابی نے "العربیہ" سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک میں شدت لانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت کے خلاف جاری عوامی مظاہروں کو "انقلاب کی تحریک" قرار دیا اور صدر عمر حسن البشیر سے مطالبہ کیا کہ وہ پرامن طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خرطوم حکام نے طاقت کے استعمال کی خو تبدیل نہ کی توان کےخلاف عوامی انتقام اور غم وغصے میں مزید شدت آئے گی۔ اس لیے صدر البشیر کو چاہیے کہ وہ رضاکارانہ طور پر حکومت چھوڑ دیں۔ احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں جاری.

درایں اثناء سوڈان میں ایک ہفتے سے جاری عوامی احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز دارالحکومت خرطوم سمیت ملک کے کئی شہروں میں ہنگامے اور احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ خرطوم میں حکومت مخالف مظاہرین کے ایک احتجاجی کیمپ پر پولیس نے فائرنگ کی جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لیا ہے مگر مظاہرین کا احتجاجی کیمپ ختم نہیں کرا سکی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق پولیس نے "امہ پارٹی" کے کئی مرکزی رہ نماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان میں اپوزیشن رہ نما صادق المہدی بھی شامل ہیں۔ انہیں خرطوم کے قریب سے اس وقت حراست میں لیا گیاجب وہ اپنے حامیوں کے جلوس سے خطاب کر رہے تھے۔

پولیس نے اپوزیشن کی دیگرجماعتوں پیپلز کانگریس، البعث پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی کے دفاتر پر بھی چھاپے مار کر درجنوں اپوزیشن رہ نماؤں کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس نے سوڈان میں عالمی بنک کی ایک خاتون اہلکار اور سرگرم سماجی رہ نما کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ محروسہ کے شوہر عبدالرحمان المہدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کو علی الصباح آٹھ سیکیورٹی اہلکار ان کے گھر میں گھس آئے اور میری اہلیہ دالیا الروبی کو پکڑ ساتھ لے گئے ہیں۔

المہدی کا کہنا تھا کہ بعد ازاں پولیس نے الروبی کی ایک سہیلی ریان شاکر کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ خاتون سماجی رہ نما کے شوہر نے بتایا کہ ان کی اہلیہ یا خاندان کے کسی فرد کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، تاہم ان کی اہلیہ نے اپنی بعض سہیلیوں کے ساتھ مل کر"Now Change movement" کے نام سے ایک سماجی گروپ تشکیل دیا ہے۔ یہ تنظیم حکومت کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں میں بھی سرگرم رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں