جوہری تنازعہ طے کرنے کیلیے ایرانی آمادگی و عمل ضروری ہے: کیری

ظاہری تاثر کی بنیاد پر کچھ ممکن نہیں، ٹوکیو میں نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ معامالات میں بہتری کے امکانات کو ایران کے جوہری پروگرام پر جاری تنازعے کے خاتمے کیلیے ایرانی آمادگی سے مشروط کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا '' اگر ایران اس تنازعے کا پر امن حل چاہتا ہے تو میرا ایمان ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔''

امریکی وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار جاپان کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے بعد ٹوکیو میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا '' انہیں امید ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی کی حکومت کامیاب ہو سکتی ہے لیکن یہ سب کچھ ظاہری تاثر کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا ہے۔''

انہوں نے مزید کہا '' بات چیت مرحلہ وار انداز میں عملی اقدامات کی بنیاد پر ہونی چاہیں۔'' اس سے پہلے ایرانی صدر حسن روحانی ایک دلفریب سفارتی کوشش میں گزشتہ ہفتے کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے لمبے عرصے سے چلے آنے والے تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

ایرانی صدر کی ان کوششوں اور خیالات کو اسرائیلی وزیراعظم نے بھیڑ کی کھال میں بھڑیا قرار دیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس صورتحال کے جنم لینے کے بعد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ہی صدر اوباما سے ملاقات کر کے اپنے ایران کے بارے میں تحفظات کا کھلا اظہار کیا تھا، جبکہ جنرل اسبلی میں دوٹوک کہا تھا اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام کو اکیلے بھی روک سکتا ہے۔۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں