حکومت مخالف مظاہرے، پس پردہ کردار کے حامل 35 افراد گرفتار

گرفتارشدگان کو 5 سے 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈانی حکومت نے ملکی حالات کی پیش نظر 35 ایسے افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد نا خوشگوار صورتحال پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

گرفتار شدگان کو خرطوم کے علاقے ضلع یوسف میں جج کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ وکیل صفائی معتصم الحاج نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گرفتار شدگان میں 5 کا تعلق جنوبی سوڈان سے ہے جبکہ حکومت کے خیال میں ان انتہائی مطلوب کے طور پر گرفتار ہونے والوں میں تین خواتین اور 8 نوجوان بھی شامل ہیں۔

وکیل صفائی کے مطابق حکومت خلاف مظاہروں کے بعد تمام افراد کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر الزام ہے کہ یہ لوگ تخریبی کارروائِیوں میں ملوث تھے۔ اگر گرفتارشدگان پر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو انہیں تین سے سات سال تک قید ہو سکتی ہے۔

جج نے واضح کیا کہ ان کی رہائی کے عوض انہیں ذاتی طور پر 20000 سوڈانی پونڈ جو 2500 امریکی ڈالر بنتے ہیں کہ مچلکے جمع کرانے ہوں گے البتہ اس مقصد کے لیے فنڈ ریزنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سوڈانی انتظامیہ کے مطابق بگڑتی صورتحال کے پیش نظر سوڈان کے وسطی علاقوں سے اب تک 700 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں اور سفارتکاروں کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز کے مظاہروں پر حملے میں 150 مظاہرین کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے، جبکہ دوسرے طرف حکومتی ذرائع نے ان اعداد و شمار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 صرف ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا گیا۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تقریباً 45 خواتین خرطوم میں سکیورٹی ہیڈ کواٹرز کے باہر اپنے اس مطالبے کے ساتھ موجود ہیں کہ اسیروں کو فی الفور رہا کیا جائے۔

اسی حوالے سے جمعہ کے روز سوڈان کے مختلف بڑے شہروں میں مزید حکومت مخالف مظاہروں کا اندیشہ ہے۔ ''العربیہ '' کے نمائندے کے مطابق مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگوں سے مظاہروں میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال ہونے والے مظاہرے عوامی شرکت کے حوالے سے گزشتہ سال کے مقابلے میں کافی بڑے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں