عمرہ کے ویزے پر حج ادا کرنا حرام ہے: سعودی عالم دین

"حج کے لیے استطاعت شرط ہے، حیلے بہانوں سے فریضہ ادا نہیں ہوتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک جج اور اسلامی قانون کے ماہر جسٹس ڈاکٹر عیسیٰ الغیث نے کہا ہے کہ عمرہ کے ویزے پر مکہ مکرمہ آنے والے افراد اسی ویزے پر فریضہ حج ادا نہیں کرسکتے کیونکہ حج کے لیے استطاعت کی شرط ہے، حیلے بہانوں سے یہ فریضہ ادا نہیں ہوتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعودی مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹرعیسیٰ الغیث نے کہا کہ اسلام اور ریاست کے مروجہ طریقہ کار اور ضابطہ اخلاق سے ہٹ کراپنی مرضی کرتے ہوئے حج کرنا "نو سربازی" تو ہو سکتا ہے مگراسے حقیقی معنوں میں فریضہ حج کی ادائیگی شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حج کے لیے صاحب استطاعت ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص حج کی استطاعت نہیں رکھتا اور وہ صرف عمرہ کے ویزے پرسعودی عرب آیا ہے تواس پر حج فرض ہی نہیں۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے کہ وہ نہ صرف ریاست کے عمومی طریقہ کار کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ مستحق عازمین حج کا حق سلب کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک اس طرح کرنا حرام ہے۔

الشیخ عیسیٰ الغیث نے عمرہ ویزہ پر چوری چھپے حج کرنے والوں کو خبردار کیا کہ اللہ سے ڈریں کیونکہ وہ حیلے بہانے کی آڑ میں حجاج میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کر رہے بلکہ گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں عمرہ ویزے پرآنے والے افراد کا حجاج کی صفوں میں گھس جانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ سعودی حکومت اس رحجان کو ختم کرنے کے لیے کوششیں بھی کرتی رہی ہے مگر اسے اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔ حکومت کی اسی ناکامی کے باعث حجاج کی تعداد میں ہر سال غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں