امریکا میں حکومت معطلی سے ایران اور شام پر پابندیوں کا عمل متاثر

صدر اوباما اور ڈیموکریٹس قانون سازوں کے درمیان مذاکرات ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں وفاقی حکومت کا کام بند ہونے کی وجہ سے ایران اور شام پر عاید پابندیوں پر عملدرآمد کی نگرانی ناممکن ہو گئی ہے کیونکہ وزارت خزانہ میں دونوں ملکوں پر پابندیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے دفتر کا عملہ ملک کو درپیش مالی بحران کی وجہ سے چھٹی پر ہے۔

اس امر کا انکشاف امریکی وائٹ ہاٶس کے ترجمان جے کارنی نے کیا ہے۔ مسٹر کارنی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس حکومت کی جانب سے بلاجواز اور غیر ضروری سرکاری اداروں کی بندش کے بعد سے شام اور ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے دفتر کا عملہ غائب ہے۔ یہ بات ہماری قومی سلامتی کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ دفتر ہمارے لئے نہایت اہم ہے کیونکہ اسی کی وجہ سے ہم نے ایران کے نیوکلیئر مسئلے جیسے محاذوں پر اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

جے کارنی نے مزید کہا کہ حکومتی شٹ ڈاٶن کے تناظر میں امریکی صدر باراک اوباما کا دورہ ایشاء منسوخ ہونے سے امریکی عوام کے معاشی مفادات کو خطرا لاحق ہو گیا ہے، نیز امریکیوں کو ملک سے باہر کام ملنے کے مواقع بھی انتہائی کم ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما اور ڈیموکریٹس ممبران کانگریس کے درمیان حکومتی سرگرمیوں کی بندش پر غور کرنے کی خاطر وائٹ ہاٶس میں ناکام مذاکرات کے بعد فیصلے سے متاثر ہونے والے ورکرز نے کانگریس کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا، جس میں وہ حکومتی عمل روکنے کے فیصلے کی شدید مذمت کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ امریکا میں اس وقت حکومت عملا معطل ہے۔ تقریبا آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین دفتروں سے غیر حاضر ہیں۔ اس صورتحال میں بہتری کی امید نظر نہیں آتی کیونکہ مذاکرات کا عمل بھی معطل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں