صومالیہ: مرکز پر حملہ برطانیہ اور ترک فورسز نے کیا، الشباب

کسی غیر ملکی گروپ نے نہیں، ہم نے خود کارروائی کی، صومالیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صومالیہ کے قصبے باراوی میں ایک باغی جنگجو کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔ القاعدہ سے منسلک گروپ الشباب کے مطابق یہ ہلاکت ''قیسٹرنرز'' کے حملے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

الشباب کے مطابق یہ واقعہ رات کے وقت الشباب کے ایک ساحلی ٹھکانے میں واقع ایک گھر پر حملے کے نتیجے میں رونما ہوا، جبکہ صومالیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں کوئی غیر ملکی گروپ ملوث نہیں ہے، یہ کارروائی خود صومالیہ نے کی ہے۔

اس کے مقابلے میں الشباب کا کہنا ہے کہ اس کے ایک ساحلی مرکز میں ایک کشتی پر سوار ہو آنے والے حملہ آوروں نے حملہ کیا ۔ یہ بات الشباب کے ترجمان شیخ ابو مصعب نے فون پر ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتائی ہے۔ واضح رہے اسی گروپ نے دو ہفتے قبل کینیا کے ایک اہم شاپنگ مال پر حملہ کیا تھا اور 67 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ الشباب نے صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ جہاں سے پورے علاقے میں کارروائیوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

موغا دیشو سے آنے والی اطلاعات کی مطابق القاعدہ سے منسلک گروپ الشباب نے الزام عائد کیا ہے کہ صومالیہ کے ساحلی مرکز میں کشتی پر سوار حملہ آوروں کا تعلق برطانیہ اور ترکی کی خصوصی فورسز سے تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں برطانوی کمانڈر مارا گیا جبکہ چار کی حالت نازک ہے۔اس واقعے میں ایک ترک فوجی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں