قذافی کی حامی روسی خاتون روسی سفارتخانے پر حملے کی محرک ہے؟

خاتون لیبیائی افسر اور اسکی والدہ کے قتل کے الزام میں گرفتار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بدھ کے روز طرابلس میں روسی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات میں اس پہلو پر فوکس کیا جا رہا ہے کہ سفارتخانے پر حملے کا بنیادی سبب لیبیا کی ایئرفورس کے ایک افسر کا قتل ہو سکتا ہے، جو کہ مبینہ طور پر سابق صدر معمر قذافی کی حامی ایک روسی خاتون کے ہاتھوں ہوا تھا۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے یقطرینہ اوستیوزحانینووا کے نام سے پہچانی جانے والی اس خاتون پر الزام ہے کہ اس نے رواں ہفتے کے اوائل میں طرابلس میں ایک ائیرفورس انجینئیر محمد السوسی کو اس کے گھر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

23 سالہ سربیا کی رہائشی اس خاتون کو لیبیائی حکام نے اس الزام میں اپنی حراست میں لے رکھا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طرابلس پولیس کا کہنا ہے کہ یقطرینہ نے السوسی کو قتل کرنے کے بعد مقتول کی والدہ پر بھی فائرنگ کی اور انہیں تیز دھار آلے کے وار سے قتل کر دیا۔ اس واردات کے بعد مبینہ قاتلہ نے مقتول السوسی کے خون سے دیوار پر انگریزی میں "چوہوں کو موت" لکھ دیا تھا۔ واضح رہے "چوہے" کا لفظ معمر قذافی اپنے خلاف احتجاج کرنے والوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق خاتون کو جائے واردات سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ ابھی تک اس قتل کے محرکات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

اخبار "انٹرنیشنل بزنس ٹائمز" کے مطابق "میڈیا رپورٹس کے مطابق یقطرینہ اور السوسی شادی شدہ شدہ تھے جبکہ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قتل کی وجہ یہ تھی کہ السوسی لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے خلاف اٹھنے والی بغاوت کا حامی تھا۔

"رشیا ٹوڈے" کے مطابق مبینہ قاتل نے "کیٹیا سیاگھا" کے نام سے مختلف قذافی حامی بلاگز پر اپنے اکائونٹ بنا رکھے تھے اور "قذافی کی مدد کرو یا اس کے لئے مر جائو" کے نام سے چندہ مہم چلانے کے بعد اس نے لیبیا کا رخ کر لیا تھا۔

السوسی کے قتل کے بعد تقریبا 10 مسلح افراد نے بدھ کے روز طرابلس میں موجود روسی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق غم و غصہ کے شکار درجنوں مظاہرین نے روسی خاتون کے ہاتھوں لیبیا کے فوجی افسر کے قتل کی خبر سنتے ہی سفارتخانے پر دھاوا بولنے کی کوشش بھی کی تھی۔

ایک حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا جبکہ 4 حملہ آور زخمی ہو گئے تھے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے عملے کے سارے افراد محفوظ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں