مصری پولیس کا غزہ سرحد پر 1055 سرنگیں مسمار کرنے کا دعویٰ

نہر سویز میں تعینات فوج کو جدید آلات کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصرکی بارڈر فورس نے فلسطینی شہرغزہ کی پٹی سے متصل علاقے رفح میں آر پار اشیائے ضرویہ کی ترسیل کی خاطر استعمال ہونے والی 1055 سرنگیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بارڈر پولیس کے سربراہ میجر جنرل احمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کی فورس نے جنوری سنہ 2011ء کے بعد سے رفح سرحد پر بنائی گئی سرنگوں کو تباہ کرنے کا آپریشن شروع کیا تھا، جن میں اب تک تقریبات گیارہ سو سرنگیں ڈھائی جا چکی ہیں۔ رواں سال کے آغاز تک مسمار کی جانے والی سرنگوں کی تعداد 794 تھی باقی سرنگیں پچھلے چند ماہ میں مسمار کی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری بارڈر فورس کے سربراہ جنرل ابراہیم نے ان خیالات کا اظہار ملٹری ایڈیٹرز کی ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں اطراف میں پھیلی 6000 کلومیٹرسرحد کی نگرانی بالخصوص نہرسویز میں امن وامان کے قیام اور آپریشن کے لیے فوج کو جدید ترین مواصلاتی اور جنگی آلات فراہم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر حکام کوحفاظتی آپریشن اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ملٹری انٹیلی جنس اور مسلح افواج کے انجینیئرنگ کور کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے۔ جزیرہ نما سینا کی 13 کلومیٹر شمال مشرقی خشکی اور 18 کلومیٹر بحری علاقے میں محیط سرحد کی نگرانی کے لیے فوج کو جدید جنگی آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان آلات کی مدد سے سرحد پر بنائی گئی زیرزمین سرنگوں کی نشاندہی اوران کی تباہی میں مدد لی جا رہی ہے۔

جنرل احمد ابراہیم نے جزیرہ نما سیناء کے عام باشندوں کی جانب سے تعاون کو سراہا اور کہا کہ قبائلی عمائدین عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں فوج کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آپریشن کے دوران جزیرہ سینا میں شہریوں کی متاثرہ املاک کےازالے کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی سے متصل سرحد کو پرامن بنانے کے لیے تمام اقدامات کیےجائیں گے۔

مسلح فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران شہریوں نقصانات کے ازالے کی خصوصی ہدایت کی ہے۔ فوج اور حکومت جزیرہ سینا میں تباہ ہونے والے مکانات دوبارہ تعمیر کرنے میں مقامی آبادی کی مدد فراہم کرنے ساتھ شہریوں کواضافی مالی سپورٹ بھی کرے گی۔

مصری عسکری عہدیدار کا کہنا تھا کہ نہرسویز میں بحری ٹریفک کو معمول کے مطابق رواں رکھنا ایک چیلنج ضرور ہے مگربری فوج اور نیوی کے دستے چوبیس گھنٹے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں اور اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت کو معمول پر رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں