ویت نام کے ’ریڈ نپولین‘ زندگی کی جنگ ہار گئے

جنرل جیاپ گوریلا جنگی حکمت عملی کے ماہر تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا اور فرانس کے خلاف جنگی فتوحات رقم کرنے والے ویت نام کے جنرل وو نگوین جیاپ انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 102برس تھی۔ انہیں ’ریڈ نپولین‘ بھی کہا جاتا تھا۔

ویت نام کے دارالحکومت ہنوئے میں ہسپتال اور خاندان کے ذرائع نے جنرل وو نگوین جیاپ کی موت کی تصدیق کی ہے۔ وہ 25 اگست 1911ء کو پیدا ہوئے تھے۔ نگوین جیاپ کا شمار گزشتہ صدی کے نامور عسکری کمانڈروں میں ہوتا ہے۔ خود سے کہیں بہتر مغربی افواج کے خلاف ان کی کامیابیوں نے دنیا بھر میں مغربی نو آبادیاتی کنٹرول کو ختم کرنے میں مدد دی اور ویت نام میں کمیونسٹ حکومت کی بنیاد بھی رکھی۔

جیاپ کو ویت نام میں ایک لیجنڈ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان کا قد چھوٹا تھا لیکن وہ مضبوط جسامت کے مالک تھے۔ انہیں انقلابی رہنما ہوشی منھ کے بعد ویت نام کا دوسرے نمبر کا لیڈر خیال کیا جاتا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق مؤرخین کی نظر میں جیاپ ایک ایسے جنرل تھے جن کا شمار مونٹگمری، رومیل اور میک آرتھر جیسے بڑے ناموں کے ساتھ ہوتا ہے۔

ناقدین انہیں ایک ایسا سنگدل قرار دیتے تھے جو اپنی افواج کی وسیع تر ہلاکتیں قبول کرنے پر بھی تیار رہتے تھے۔ تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے ان کی صلاحیت اور دانش مندانہ حربوں کی بدولت ہی انہوں نے کہیں زیادہ وسائل رکھنے والے دشمنوں کے خلاف جنگیں جیتیں۔ جنرل جیاپ نے ایک مرتبہ کہا تھا: ’’ہتھیار ڈالنا، یہ اصلاح میری لغت میں نہیں ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے لیے لڑنے والی کسی بھی فوج کے پاس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایک ایسی تخلیقی توانائی ہوتی ہے، اس کے دشمن جس کی توقع نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

فرانس کو ویت نام میں 1954ء کی دیان بیان فو جنگ میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف دنیا کی اس دوسری بڑی نو آبادیاتی طاقت کا زوال شروع ہوا بلکہ دنیا بھر میں نوآبادیاتی کنٹرول کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔

دو دہائیوں بعد جیاپ نے اس وقت کے جنوبی ویت نام میں فرانس سے بھی بڑی عسکری طاقت امریکا کو شکست دی۔ اس کے بعد ویت نام میں 38 سالہ کمیونسٹ دَور حکومت شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ گوریلا لڑائی کے موضوعات پر جیاپ کی کتابیں دنیا بھر میں بائیں بازو کے طبقے اور شدت پسندوں میں مقبول ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں