پرانے قبرستان کے باعث جازان آئل ریفائنری منصوبے پر کام بند

تنازع حل کرانے کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیل کی دولت اور مقدس تاریخی مقامات سے ملنے والے شہرت دوام سعودی عرب کو بسا اوقات ایسے دوراہوں پر لا کھڑا کرتی ہے کہ جس سے اس منفرد خطے کو پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوب مغربی ساحلی جازان میں سوسال قدیم قبرستان کے باعث تیل کی سب بڑی فرم"ارامکو" کو آئل ریفائنری کے قیام کے اپنے ایک منصوبے پرکام روکنا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "ارامکو" کی جانب سے جازان میں تیل کی تلاش اور صاف کرنے کے لیے ایک کارخانہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کارخانے کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا اس کے آس پاس کم وبیش پانچ قبرستان موجود ہیں۔ ان میں ایک قدیم قبرستان جس میں اکثر قبریں ایک سو سال پرانی بتائی جا رہی ہیں، ریفائنری کے قیام میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جازان میں آئل ریفائنری کے لیے زمین ہموار کی جا رہی تھی۔ اس دوران سو سال قدیم قبروں پرمشتمل قبرستان کی موجودگی اور مقامی شہریوں کے احتجاج کے بعد "آرامکو" کو کام روکنا پڑ۔ بعد ازاں مسئلےکے حل کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو اس امر کا تعین کرے گی کہ کیا تیل کے کارخانے کے لیے قبرستان کو بلڈوز کردیا جائے یا منصوبے کے لیے نئی جگہ کا انتخاب کیا جائے۔

جازان کے گورنر شہزادہ محمد بن ناصر بن عبدالعزیز نے ارامکواور قبرستان انتظامیہ کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مذہبی پولیس، اقتصادی ماہرین اور کمپنی کے عہدیداروں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی ہے، جو جلد ہی اپنی رپورٹ فراہم کرے گی۔

شہزادہ محمد بن ناصر بن عبدالعزیزکی جانب سے یہ مسئلہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کو بھی بھیجا ہے اور قدیم قبروں سے متعلق ان کی رائے معلوم کی ہے۔ مفتی اعظم کو فراہم کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ جازان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں پر تیل صاف کرنے کا کارخانہ معاشی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ وہ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ آیا قبرستان کی زمین کو کارخانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں