.

امریکا کو مطلوب دہشت گرد انس لیبی کی گرفتاری

ایف بی آئی نے انس کے سر کی قیمت 5 ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے لیبیا کے دارلحکومت طرابلس میں ایک آپریشن کر کے القاعدہ کے مقامی رہنما ابو انس اللیبی کو گرفتار کر لیا ہے۔

انس لیبی پر سن 1988 میں تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارتخانوں پر بم حملوں کا الزام ہے۔ ان حملوں میں کم سے کم دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ انس لیبی کا نام امریکی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کی خطرناک مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ امریکا نے ان کے سر کی قیمت پانچ ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ امریکا کے شہر نیویارک کی ایک فیڈرل کورٹ نے انہیں مشرقی افریقہ کے مبینہ بم حملوں میں ملوث ہونے کا قصوروار ٹہرایا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے امریکی محکمہ دفاع 'پینٹگان' کے ترجمان جارج لٹل کے حوالے سے بتایا ہے: " امریکا کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے بعد ابو انس اللیبی کو امریکی فوج نے قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا ہے اور اس وقت وہ لیبیا سے باہر محفوظ مقام پر موجود ہیں۔" ایک امریکی اہلکار نے 'سی این این' کو بتایا کہ لیبی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں طرابلس میں دن دیہاڑے امریکی فوج کی ایک کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ لیبی حکومت کو اس آپریشن کا علم تھا۔"

تاہم لیبی سیکیورٹی سروسسز نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی فرد کی گرفتاری یا اغوا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ انس لیبی، جن کا اصلی نام نازح عبدالحمد الراغی تھا، کی گرفتاری کے بعد پندرہ سال سے جاری انتہائی مطلوب شخصیت کی گرفتاری کا باب مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ ان پر مقدمہ چلانے کی غرض سے لیبی کو جلد امریکا منتقل کیا جائے گا۔