.

امریکی فوج کی صومالیہ میں القاعدہ کے خلاف ناکام کارروائی

آپریشن کا مقصد نیروبی مال دہشت گردی کے ملزمان کی گرفتاری تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی افواج نے صومالیہ کے ایک علاقے میں القاعدہ کے اہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ صومالیہ کے حکومتی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ امریکی اسپیشل فورسز نے ملک کے جنوب میں واقع ایک ساحلی شہر باراوے میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اس کارروائی کا مقصد چند روز قبل نیروبی کے ایک شاپنگ مال پر حملے میں ملوث القاعدہ کے ایک اہم دہشت گرد کو گرفتار کرنا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک حاضر اور ایک سابق امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی افواج نے ہفتے کو صومالیہ کے جنوب میں واقع شہر باراوے کے ساحل پر ایک دو منزلہ مکان پر کارروائی کی۔ اس عہدیدار کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد القاعدہ سے منسلک الشباب تنظیم کے اہم رہنما کی گرفتاری تھی۔ اس دوران امریکی افواج اور الشباب کے عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں الشباب کے کئی عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے۔ تاہم امریکی فوجی اپنے ٹارگٹ کو پکڑنے میں ناکام رہے۔

الشباب کے رہنما مختار ابو زبیر نے اکیس ستمبر کو نیروبی کے ایک شاپنگ مال پر دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ الشباب کے دہشت گردوں نے اس مال پر چار دن تک قبضہ کیے رکھا۔ اس دوران سڑسٹھ افراد کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ صومالیہ کی ایک سرکاری خفیہ ادارے کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز باراوے میں امریکی افواج کا نشانہ ابو زبیر ہی تھا۔ الشباب کے ایک رکن شیخ ابو مصعب نے ایک صوتی پیغام میں کہا ہے کہ امریکی ریڈ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔