.

لیبی اخوان پر قدرتی تیل کے وسائل پر قبضہ کی کوشش کا الزام

صوبائی عہدیدار کو 30 ملین دینار رشوت کی پیشکش کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں وفاق کے زیرانتظام نیم خود مختار برقہ صوبے کے ایک سینیئر عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ اخوان المسلمون سے وابستہ عہدیدار صوبے میں قدرتی تیل کے وسائل پر قبضے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ صوبائی سیاسی شعبے کے سربراہ ابراہیم الجضران کا کہنا ہے کہ اخوان کے کچھ لوگوں نے انہیں "زبان بند" رکھنے کے عوض تیس ملین دینار رشوت کی بھی پیشکش کی ہے جسے انہوں نے مسترد کردیا ہے۔

ابراہیم الجضران نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ برقہ صوبے میں تیل ذخیرہ کرنے کا کام اسی لیے روکا گیا ہے کیونکہ اخوان المسلمون تیل کے وسائل ہتھیانا چاہتی ہے۔ اخوان المسلمون کے حامی حکومت اور پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور وہ برقہ صوبے کا تیل 'چوری' کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں صوبائی کونسل کے عہدیدار نے کہا کہ طرابلس کی جانب سے صوبے میں تیل کی پمپنگ روکے جانے پراعتراض کیا گیا ہے لیکن یہ فیصلہ میری کوششوں سے ہوا ہے، جب تک تیل کی کرپشن کے تمام ذرائع بند نہیں کردیے جاتے مزید تیل نہیں نکالا جائے گا۔ الجضران کے بقول تیل کی پمپنگ کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب تیل کو بیرون ملک غیر قانونی طریقے سے فروخت کیے جانے کا انکشاف کیا گیا۔

ابراہیم الجضران نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ طرابلس حکومت صوبے کی نیم خود مختاری کا احترام نہیں کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ اور حکومت نے ہمارے خلاف جنگ مسلط کر رکھی۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم نے قدرتی تیل کی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ روکتے ہوئے دنیا کو وفاقی حکومت کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔

صوبائی عہدیدار نے مزید کہا کہ برقہ صوبے میں اہم سیاسی شخصیات کی قاتلانہ حملوں میں ہلاکتوں کے پس پردہ تیل چوری کرنے کے اسکینڈل تھے۔ حملہ آور آئل سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کو دبانے کے لیے اہم شخصیات کو منظر سے ہٹاتے اور واقعات کی غیر جانب دارانہ تفتیش کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تیل کے وسائل کے تحفظ کے لیے فوج بھیجنے کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے لیکن برقہ صوبے میں فوج اپنا تحفظ نہیں کرسکتی وہ وہاں کے وسائل کا تحفظ کیا کرے گی۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ برقہ صوبے سے تیل کی مزید سپلائی کا کام اسی وقت شروع ہو گا جب تیل سیکٹر میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کے نتائج سامنے آئیں گے۔ مسٹر الجضران کا کہنا تھا کہ وزیر پٹرولیم لیبیا کے اخوان المسلمون سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ وزیراعظم علی زیدان سمیت کئی اہم وزراء تیل چوری میں ملوث ہیں۔ ان کی جانب سے مجھے تیس ملین دینار رشوت کی پیشکش کی گئی تھی جسے میں نے ٹھکرا دیا۔

خیال رہے کہ "برقہ" لیبیا کے ان تین بڑے اور تیل کی دولت سے مالا مال صوبوں میں سے ایک ہے جسے سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کے آخری دور میں نیم خود مختاری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیبیا کی موجودہ عبوری حکومت نے صوبہ فزان کو خود مختاری کا حق دیا ہے۔ صوبہ برقہ کی حکومت بھی خود مختاری کے لیے کوشاں ہے۔