.

پرنس ہیری کا طالبان حملوں میں بچ نکلنا خوش قسمتی ہے: طالب کمانڈر

ہیری دو مرتبہ برطانوی فوج کے ساتھ افغانستان میں تعینات رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے کثیرالاشاعت موقر اخبار کے مطابق پرنس ہیری کے افغانستان میں قدم رکھتے ہی وہ طالبان کے مرکزی ہدف بن گئے تھے۔ 'ڈیلی مرر' کا کہنا ہے کہ افغان عسکریت پسند برطانوی شاہی خاندان کے چھوٹے شہزادے کو پکڑنے یا قتل کے درپے تھے۔

اخبار نے ایک طالبان کمانڈر قاری نصر اللہ کے حوالے سے بتایا کہ "ہیری کے افغانستان قیام کے دوران جنگجو مسلسل ان کی گرد سیکورٹی حصار توڑنے کی کوشش کرتے رہے۔"

پاکستان کے شہر پشاور میں بھاری سیکورٹی کے ساتھ موجود نصر اللہ نے اخبار سے انٹرویو کے دوران کہا: "آپ کے پرنس نے یہاں آ کر اپنے اپاچی ہیلی کاپٹر سے مجاہدین پر حملے کیے، جس کے بعد ہمارے مجاہدین کے دل میں ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رہتا۔"

"جہاں تک مجاہدین کا تعلق ہے، ہیری ان کے لیے ایک عام فوجی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے جو امریکا کے لیے لڑ رہا ہو۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیری کو پکڑنے کے کئی منصوبے بنائے گئے، لیکن شاید ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ہر مرتبہ بچ نکلے’۔ خیال رہے کہ پرنس ہیری دو مرتبہ برطانوی فوج کے ساتھ افغانستان میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

دو ہزار آٹھ میں بطور انفنٹری تعیناتی کے دوران میڈیا کی جانب سے ہیری کی افغانستان میں موجودگی کا راز افشاء ہونے کے بعد ان کا دورہ دس ہفتہ بعد اچانک ختم کر دیا گیا تھا۔ انتیس سالہ پرنس دوسری مرتبہ پچھلے سال افغانستان آئے۔ ان کے یہاں آنے کے کچھ دنوں بعد ہی برطانیہ کے مرکزی کیمپ بیسچن پر خود کش بمباروں نے حملہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد راکٹوں اور اے کے 47 بندوقوں سے لیس عسکریت پسندوں نے کیمپ پر زمینی حملہ کیا۔ چار گھنٹے تک جارے رہنے والے اس حملے میں پندرہ طالبان شدت پسندوں نے دو امریکی سروس مین کو ہلاک جبکہ متعدد طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ کر دیے تھے۔