.

سوڈان: پولیس کا "امہ پارٹی" کے ہیڈ کواٹرز کا محاصرہ

حکومتی تحقیقاتی کمیشن پر جانب داری کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں صدرعمرالبیشرکے خلاف سڑکوں پراحتجاج میں پیش پیش اپوزیشن جماعت "اُمہ" کے خلاف نئے کریک ڈاؤن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

خرطوم میں "العربیہ" ٹی وی کواپوزیشن کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پیر کے روز سیکیورٹی فورسز نے ام درمان شہرمیں "امہ پارٹی" کے ہیڈ کواٹرز کا محاصرہ کرلیا ہے۔ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا تازہ محاصرہ کسی نئے کریک ڈاؤن کی ممکنہ نشاندہی کر رہا ہے۔

درایں اثناء حکومتی پالیسیوں میں اصلاحات بل تیار کرنے اور اپوزیشن کے ساتھ مصالحت کے لیے کوشاں حکمراں جماعت نیشنل کانگریس کے کئی عہدیداروں نے صدرعمرالبشیر پرایک مرتبہ پھرعدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اصلاحاتی قرارداد پر دستخط کرنے والے کئی سرکردہ لیڈروں نے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے اور کسی قسم کا بیان دینے سے بھی انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ کمیشن کے سربراہ احمد ابراہیم الطاہر جانب داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سوڈان میں پھوٹنے والے ہنگاموں کے بعد حکمراں جماعت کے 31 رہ نماؤں نے ایک اصلاحاتی یاداشت تیار کی تھی، جس میں حکومتی پالیسیوں میں اصلاحات تجویز کی گئی تھیں۔

حکمراں جماعت کے اصلاح پسند سرکردہ رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ "ہم سے تحقیقات اور تفتیش سے قبل حکومت مظاہرین پرطاقت کے استعمال میں ملوث عناصر اور انتظامیہ کا احتساب کرے"۔ اصلاح پسندوں کا کہنا ہے کہ صدر چاہیں تو پارٹی سے نکال دیں مگر وہ اصلاحاتی قرارداد میں اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکمراں جماعت کے سرکردہ اصلاح پسند لیڈر ڈاکٹرغازی صلاح الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں حکومت کے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن پر یقین نہیں رکھتا کیونکہ یہ جانب داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ حکومت ہم سے کچھ پوچھنا چاہتی ہے تو ہم صرف یہ کہیں گے کہ نہتے شہریوں پر طاقت کے استعمال میں ملوث عناصر کا کڑا احتساب کیا جائے۔

خیال رہے کہ حکومتی پالیسیوں میں اصلاح کے لیے"اصلاحاتی قرار داد نمبر31" غازی صلاح الدین ہی نے تیار کی ہے۔ بعد ازاں کی حمایت کرنے والے دیگر پارٹی رہ نماؤں کے اس پر دستخط کرائے گئے تھے۔

حکمراں جماعت کی خاتون رہ نما اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سمیہ ھبانی کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئی تھیں لیکن انہوں نے اصلاحاتی قرارداد پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اخبار"جریدہ" کی رپورٹ کے مطابق مسز ھبانی کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کا موجودہ ڈھانچہ آمریت کی راہ پر چل رہا ہے جس میں عدل اور شورائیت کا کوئی وصف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پارٹی رکنیت ختم کرنے کے لیے استعفیٰ صدر کو بھجوا دیا ہے۔

سوڈانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سوموار کے روز تحقیقاتی کمیشن کے اجلاس میں کئی اہم فوجی اور سیاسی عہدیداروں نے اپنے بیانات قلم بند کرائے۔ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والوں میں جنرل محمد، ڈاکٹر ابراہیم، حسن رزق، ڈاکٹر اسامہ توفیق، مہدی کرت، فضل اللہ احمد عبداللہ اور دیگر شامل ہیں۔