.

38 واں"حج اکبر" سیمینار منگل کو مکہ مکرمہ میں ہو گا

سیمینار میں 213 ممالک کوشرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت حج کے زیرانتظام اڑتیس ویں بین الاقوامی "حج اکبر" کانفرنس کل منگل کے روزمکہ مکرمہ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں 213 ممالک کوشرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ان ممالک سے آنے والے ماہرین اور علماء فلسفہ حج اور اس کی ترجیحات" سے متعلق اپنے مقالے بھی پیش کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت حج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اب تک انہیں سیمینار میں شرکت کے لیے کئی ممالک کے مندوبین نے رابطہ کیا ہے۔ ماہرین کے تیار کردہ مقالہ جات کی 32 خلاصے وزارت حج کے پاس جمع کرائے جا چکے ہیں۔

ان کے علاوہ سیمینار میں 200 ماہرین، علماء اور مبلغین شرکت کر کے"فلسفہ حج اور فریضہ حج کی ترجیحات" پر روشنی ڈالیں گے۔ سعودی عرب کے وزارت حج و عمرہ کے سیکرٹری اور سییمنار کے منتظم اعلیٰ ڈاکٹرعیسیٰ بن محمد رواس نے ریاض میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ منگل کے روز ہونے والے "حج اکبرسیمینار" میں شرکت کے لیے 213 ممالک کو دعوت دی گئی ہے جن میں سے 67 ملکوں کی جانب سے سیمینار میں شرکت کی دعوت قبول کرلی گئی ہے۔ چوون ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پرحج سیمینار میں شرکت کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والے سالانہ 38 ویں "حج اکبر" سیمینار میں کئی ملکوں کے سیکڑوں مندوبین شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں 167 مقالے پیش کیے جائیں گے۔ مقالے پیش کرنے والوں میں 32 خواتین اور 135 مرد ماہرین شامل ہیں۔ ان مقالہ جات میں سماجی، سائنسی، قانونی ماہرین کی تحقیقات پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ تہذیبوں کے درمیان تصادم، مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور حج کے دوسری تہذیبوں پر اثرات کے موضوعات پربھی مضامین پڑھے جائیں گے۔

ڈاکٹر الرواس سے پوچھا گیا کہ انہوں نے حج اکبر کانفرنس کے لیے "فلسفہ حج کی ترجیحات" کا عنوان کیوں چنا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ"عصر حاضر میں عالم اسلام کو فریضہ حج کے طریقہ کار سے زیادہ اس کی ترجیحات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فریضہ حج ادا کرنے والے ہر مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حج کے تقاضے کیا ہیں اور وہ حج کے دوران شریعت مطہرہ اور دین اسلام کی صحیح تعلیمات کا عملی مظاہرہ کیسے کرسکتا ہے۔ حج سے واپسی کے بعد اسے بقیہ زندگی کس انداز میں گذارنی ہوگی۔