سعودی شہریوں نے خون کا عطیہ دیکر حجاج کا استقبال کیا

خون کے عطیات طائف کے بلڈ بنک میں دیئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حجاج کرام کی خدمت کے لیے نہ صرف سعودی حکومت چوبیس گھنٹے مصروف عمل ہے بلکہ عام شہری بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ دو سو سعودی شہریوں نے اپنے ملک آنے والے اللہ کے مہمانوں کی آو بھگت خون کا عطیہ دیکر کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رضاکاروں پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم نے مغربی شہر طائف کے مختلف علاقوں میں خون کے عطیات کے حصول کے لیے فیلڈ میں کام شروع کیا تو ایک دن میں کم سے کم 200 شہریوں نے خون کے عطیات دیے ہیں۔ خون کے یہ عطیات حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت میں حجاج کو فراہم کیے جا سکیں گے۔

محکمہ صحت کے مطابق خون کے عطیات جمع کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم طائف میں شروع کی گئی تھی، جہاں سے دو سو افراد نے اپنے خون کے عطیات دیے ہیں۔ خون عطیہ کرنے والوں میں تمام سعودی شہری شامل ہیں۔ ابھی تک کسی غیر ملکی نے اپنے خون کا عطیہ نہیں دیا ہے۔ خون کے عطیات لینے کے بعد انہیں طائف کے مرکزی بلڈ بنک میں جمع کر دیا گیا ہے، جہاں سے حسب ضرورت انہیں استعمال کیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں خون کے عطیات دینے والوں کے تناسب میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب یہ شرح 63 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں حج کے موقع پر خون کے عطیات کے حصول کا پہلا تجربہ گذشتہ برس کیا گیا تھا۔ ملک کے مختلف شہروں میں سیکڑوں افراد نے خون کے عطیات دیےتھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مکہ مکرمہ کے ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر خالد ظفر نے تمام بڑے اسپتالوں اور مشاعر کے لیے مختص طبی مراکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے طبی مراکز میں ایمرجنسی کی سہولیات اور طبی ضروریات کا جائزہ لیا اور حجاج کو فوری اور بہتر طبی معائنے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں