شام کے مزید چار ملین شہری بے گھر ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ

2014ء کے اختتام تک شام میں 8.3 ملین افراد کو مدد کی ضرورت ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ برس شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں مزید دو ملین کا اضافہ ہوجائے گا جبکہ تقریبا 2.25 ملین شہری اندرون ملک ہی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

زیادہ تر شامی پناہ گزین لبنان، ترکی، عراق اور اردن میں رجسٹرڈ ہیں۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز نے قاہرہ حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مصر میں تین لاکھ مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ لیکن وہاں پر موجودہ حالات کے پیش نظر یہ توقع نہیں کی جا رہی کہ مزید شامی شہری مصر جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر دی گئی تفصیلات کے مطابق، اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے نئی اپیل کی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی 10 ایجنسیوں، بین الاقوامی ادارہ برائے نقل مکانی اور دیگر 18 امدادی اداروں کے حکام نے 26 ستمبر کو عمان میں شام کے حوالے سے 2014ء کی حکمت عملی سے متعلق ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے ادارہ او سی ایچ اے کے حکام نے کہا تھا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ شام میں جاری تنازعہ مزید شدت اختیار کرے گا، شامی معاشرے میں تفریق بڑھے گی اور کٹھن حالات سے نمٹنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

شام میں جاری تنازعے کا آغاز مارچ 2011ء میں ہوا لیکن اب تک اس کے اختتام کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ او سی ایچ اے نے پیشن گوئی کی ہے کہ 2014ء کے اختتام تک شام میں 8.3 ملین افراد جن میں 6.5 ملین وہ افراد ہیں جو پناہ حاصل کرنے کے لیے شام کے ہی کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہوں گے، انہیں مدد کی ضرورت ہو گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شامی مہاجرین کو پناہ دینے میں 12 یورپی ممالک سمیت 17 ممالک کام کر رہے ہیں۔ یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے جو ترکی اور بلغاریہ سے سفر کر کے یہاں آئے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ ترکی اور بلغاریہ میں اب مزید افراد کے رہنے کی گنجائش نہیں ہے اور پناہ گزینوں کے لیے وہاں محفوط ماحول میسر نہیں ہے۔ رائیٹرز کی جانب سے دیکھے گئے دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق تیار کیے جانے والے پلان میں یورپ اور شمالی افریقہ جانے والے پناہ گزینوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے مستقبل میں شام میں امن قائم نہ ہونے کی صورت کے پیش نظراپنے اقدامات کا رخ شام اور اس کے ہمسایہ ممالک میں طویل مدت میں درکار انسانی ضروریات کو پورا کرنے پر کر لیا ہے۔ شام میں جاری تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کئی مرتبہ ملتوی ہوچکی ہے اب توقع ہے کہ نومبر کے وسط میں اس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ سفارتکاری کی زیادہ تر توجہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی طرف مرکوز تھیں جنہیں امریکا اور روس کے ایک معاہدے کے تحت تلف کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں جاری لڑائی میں اب تک ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں