حجاج کرام کی حفاظت کے لیے 95 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات

حج کے دوران فرقہ واریت کی اجازت نہیں دیں گے: وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نائف نے کہا ہے کہ فریضہ حج کی ادائی کے دوران حجاج کرام کی حفاظت کے لیے 95 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حج ایک عظیم عبادت ہے اور اس کے دوران سیاسی جھگڑوں اور فرقہ وارانہ تنازعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیر داخلہ شہزادہ نائف نے بدھ کے روز ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حجاج کے لیے حفاظتی انتظامات کی تیاریوں کی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ حجاج کے تحفظ کے لیے ریاض حکومت نے اسپیشل فورس کے 40 ہزار اہلکاروں کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ حجاج کرام کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ "حجاج اطمینان کے ساتھ مناسک حج ادا کریں۔ امن وامان کے حوالے سے انہیں کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے"۔

وزیر داخلہ کہہ رہے تھے کہ مسجد حرام، کعبہ شریف، مشاعر مقدسہ اور دیگر مقدس مقامات کے حرمت کا یہی تقاضا ہے کہ ہم سب پرامن رہیں۔ حج بیت اللہ کرنے والوں کو اپنے فریضے کی ادائی کے حوالے سے زیادہ حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔ حکومت بھی حجاج کرام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ ایک لاکھ کے قریب سیکیورٹی اہلکاروں کی تعینات اس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج کے موقع پر دہشت گردی کی سازشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن انہیں امید ہے کہ اب کی بار دہشت گردوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ مکہ مکرمہ کے تمام داخلی راستوں پر چیکنگ کے لیے الیکٹرک گیٹ نصب کیے گئے ہیں، جہاں سے گذر کر آنے والے ہر شخص کے بارے میں تمام تفصیلات ہمارے ریکارڈ میں آ جاتی ہیں۔ ان الیکٹرک چیک پوسٹوں سے باہر کسی شخص کو مکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہے حتیٰ کہ سعودی شہری بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں