ملا برادر اب بھی پاکستانی قید میں ہیں: ترجمان افغان طالبان

رہائی کا تقریبا تین ہفتے پہلے پاکستان نے باضابطہ اعلان کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان طالبان کے ترجمان نے ملا برادر کی پاکستان سے رہائی کو تین ہفتے گذرنے کے بعد اچانک مشکوک بنا دیا ہے۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر ابھی تک پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔

طالبان کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات کے حوالے سے ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھے جانے والے ملاعبدالغنی برادر جنہیں 21 ستمبر کو پاکستان نے خیرسگالی کے طور پر باضابطہ طور پر رہا کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان میں حالیہ اے پی سی کی روشنی میں ان کی مدد سے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کیلیے انہیں متحرک کرنے کی اطلاعات بھی آئیں، لیکن افغان طالبان نے ان کی رہائی کو خلاف واقعہ دعوی قرار دے دیا ہے۔

ملا برادر کا شمار افغان طالبان کے بانیوں کی فہرست میں ہوتا ہے اور انہیں عسکری تربیت اور تجربے کے حوالے سے بھی نمایاں حیثیت کے حامل رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستان میں قید کی وجہ سے ملا برادر کی صحت کافی گرتی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ 2001ء میں امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد ملا برادر بیرونی طاقتوں کے خلاف ابھر کر سامنے آئے۔ وہ افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے قریبی ساتھ بتائے جاتے ہیں۔ انہیں برادر کا خطاب بھی ملا عمر نے ہی دیا تھا جس کا مطلب "بھائی" ہے۔

ملا برادر کے ابھی تک زیر حراست رہنے کے طالبان ترجمان کے دعوے کے بارے میں پاکستان کے متعلقہ حکام نے ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں