.

امریکا نے مصری فوج کی امداد جزوی طور پر روک دی

اس فیصلے سے ہیلی کاپٹروں اور ہاپون کی فراہمی موخر ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مصر کو پہلے سے اعلان کے مطابق دیے جانے والے اپاچی ہیلی کاپٹروں اور ہارپون میزائیلوں کے علاوہ ٹینکوں کے پرزہ جات کی فراہمی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکا کا یہ اقدام عملا علامتی نوعیت کا ہے تاکہ مصر میں جمہوری عمل کے لیے دباو رکھا جا سکے۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے اس فیصلے سے مصر کے لیے پائپ لائن میں موجود وسیع پیمانے پر فوجی سامان اور اقتصادی امداد کی ترسیل منجمد کر دی جائے گی، تاکہ مصر میں تمام جماعتوں کو شامل کر کے جمہوری عمل کو آگے بڑھائے جانے اور منتخب حکومت لانے کیلیے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب ممکن بننانا یقینی بنایا جا سکے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصری فوج کے لیے اس امداد میں یہ جزوی تعطل مصر کیلیے260 ملین ڈالرکی امریکی امداد اور 300 ملین ڈالر کے قرض سے متعلق ہے تاہم مجموعی امداد کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔

امریکا کی طرف سے کہا گیا ہے ''امریکا جزوی فوجی امداد میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باوجود مصر کو دہشت گردی سے نمٹنے، سرحدوں کی حفاظت کی خاطر امداد جاری رکھے گا۔ اس سلسے میں امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو بھی اپنے منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے۔

اس سے پہلے مصر میں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد امریکا نے مصر کو ایف 16 طیاروں کی ترسیل ملتوی کر دی تھی۔ جبکہ مصر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کے بعد فوجی امداد کی جزوی ترسیل روکنے پر غور شروع کیا گیا تھا۔