.

باران رحمت سے مقدس مقامات دُھل گئے، خنکی بڑھ گئی

جستی چادریں اور خیمے گرنے سے سات افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جہاں مناسک حج کی تیاریاں اپنے نقطہ عروج پر ہیں، وہیں بارش نے موسم کو بھی خوشگوار بنا دیا ہے، تاہم بعض مقامات پر جکھڑ چلنے اور تیز ہواؤں کے باعث خیمے گرنے سے کم سے کم سات افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی محکمہ موسمیات وتحفظ ماحولیات کے ترجمان حسین القحطانی نے بتایا گیا ہے کہ بدھ کی شام مکہ مکرمہ اور حجاج کی نقل وحرکت کے مصروف مقدس مقامات مزدلفہ، منیٰ، عرفات اور ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں درمیانے درجے کی بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسٹر قحطانی کاکہنا تھا کہ مقامات مقدسہ [منیٰ، مزدلفہ اورعرفات] اور حدود حرم میں میں بدھ کے روز کم سے کم 25 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چلنےسے موسم میں اچھی خاصی خنکی محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم رات گئے موسم بتدریج بہتر ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں محکمہ موسمیات کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پیش آئند ایام بالخصوص حج کے دنوں میں مزید بارش کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، تاہم حالیہ بارش سے درجہ حرارت میں سات درجے سینٹی گریڈ کی کمی ہوئی ہے۔ ایام حج میں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 36 اور کم سے کم 22 درجے سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔

درایں اثناء سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ منیٰ اور میدان عرفات میں آندھی اور تیز ہوائیں چلنے سے حجاج کرام کے کئی خیمے اکھڑ گئے اور جستی چادریں گرنے سے سات افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے انہیں قبل از وقت بارش کی وارننگ دی گئی تھی، جس کے بعد شہری دفاع نے حجاج کرام کے خیموں کے لیے مزید حفاظتی انتظامات بھی کرلیے ہیں۔ عازمین حج کی ضروریات کے پیش نظر شہری دفاع کے رضاکاروں کے پیدل دستے حج کیمپوں میں گشت بھی کر رہے ہیں۔

ادھر سعودی عرب کے ماہر موسمیات خالد الراضی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز شروع ہونے والی بارش وقفے وقفےسے کل جمعہ تک رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کی بھی توقع ہے البتہ اسے کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ نہیں۔