ترکی: ٹی وی میزبان کی مختصر لباس کے باعث نوکری ختم

حکمران جماعت کے ترجمان نے بھی خاتون کے لباس پر تنقید کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی سے تعلق رکھنے والی ایک ٹی وی میزبان کو پروگرام کے دوران پر زیادہ کچھ ہی کھلے گلے والے کپڑے زیب تن کرنے کی وجہ سے نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ ایک برطانوی روزنامے کے مطابق ٹی وی میزبان "گوزدے کانسو" کو حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان حسین سیلیک کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد نوکری سے فارغ کیا گیا ہے۔

حسین سیلیک نے "ولی عہد" ٹی وی پروگرام پر بغیر کوئی نام لئے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پروگرام اخلاق باختہ ہے اور اس میں غیر موزوں لباس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جس سے غیر معمولی طور پر جسم کی نمائش کی جاتی ہے۔

حکمران جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ،" ہم کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے مگر یہ معاملہ حد سے گزر گیا ہے اور ناقابل برداشت ہے۔"

حکمران جماعت کے ترجمان کی جانب سے ان بیانات کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ ان کی تنقید کا نشانہ گوزدے کانسو ہی تھیں۔ بعد ازاں اس ترک ٹی وی کے پروگرام کو تیار کرنے والی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ کانسو کوانتہائی زیادہ کھلے گلے والے کپڑے پہننے کی وجہ سے نہیں نکالا گیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کانسو کے ساتھ مزید کام نہیں کرنا چا ہتی ہے، کیوںکہ پہلی ہی قسط سے ان کا انداز اور اسٹائل پروگرام کے مقاصد کے منافی تھا۔

کانسو کی برطرفی پر اٹھنے والے ردعمل پر جواب دیتے ہوئے سیلیک نے کہا کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ ایک فرد، ٹی وی ناظر اور سیاستدان کی حیثیت سے اپنی رائے اظہار کرسکتے ہیں۔

سیلیک نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر بتایا ہے کہ " میں نے کبھی کسی شو یا فرد کا نام نہیں لیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اپنے طور پر نام لیے ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں