.

لیبیا: وزیر اعظم کے اغوا کی سرکاری طور پر تصدیق

علی زیدان کو مسلح افراد نے صبح سویرے ایک ہوٹل سے اغوا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان جنہیں علی الصباح مسلح افراد نے ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا تھا چند گھنٹے بعد لبیا کی حکومت نے ان کے اغوا کی باضاطہ تصدیق کر دی ہے۔ لیبیا جہاں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی انتہا پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں ہیں ان دنوں غیر معمولی واقعات کی زد میں ہے۔

لیبیا کے وزیراعظم کی مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا کی یہ کارروائی القاعدہ کمانڈر ابو انس اللیبی کی ہفتے کے روز طرابلس سے امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک بڑا واقعہ ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں کسی منتخب وزیر اعظم کے اغوا کا یہ منفرد واقعہ ہے۔

واضح رہے لیبیا سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کمانڈر لیبی کے امریکیوں کے ہتھے چڑھنے کی لیبیا حکومت نے مذمت کی تھی اور لیبیا کی عدالت نے امریکی سفیر کو عدالت نے طلب کر لیا تھا، جبکہ امریکی صدر اوباما نے اپنے دوروز قبل جاری کیے گئے بیان میں افریقی ممالک میں القاعدہ کا تعاقب جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔

اس صورت حال میں جمعرات کے روز صبح سویرے جب وزیر اعظم علی زیدان ایک ہوٹل میں موجود تھے، انہیں نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ اس امر کی تصدیق قدرے تاخیر سے لیبیا کے وزیر انصاف صلاح المرغانی نے ایک مختصر تحریری بیان کے ذریعے کی ہے۔

سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ '' عبوری حکومت کے سربراہ کو نامعلوم مسلح افراد نے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر اغوا کیا ہے، اس امر کا امکان موجود ہے کہ اغوا کار سابقہ باغی ہیں۔''

ابھی کچھ ہی دیر پہلے مغوی وزیر اعظم کی اغوا کے بعد کی ایک تصویر بھی سامنے آ گئی ہے۔ یاد رہے ان دنوں افریقی ممالک امریکا اور القاعدہ کی نئی جولان گاہ کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

واضح رہے ایک غیر سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق اس سے پہلے پیر کے روز بھی لیبیا کے عبوری سربراہ کے دفتر پر بھی درجنوں غیر مسلح لیبیائی سپاہیوں نے وزیر اعظم کے دفتر پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم ان کا مطالبہ اپنی تنخواہوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے تھا۔
فوری طور پر کسی گروپ نے لیبیا کے عبوری سربراہ کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم بھی اس سلسے میں صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔