.

مہنگائی کے خلاف احتجاج، تختہ الٹنے کی سازش تھی: عمرالبشیر

امریکا اور "آئی سی سی"مجھے گرفتار نہیں کر سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدرعمرالبشیر نے پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی ختم کیے جانے کے خلاف احتجاج کوحکومت کا تختہ الٹنے کی سازش قراردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کی آڑمیں تخریب کار"طاغوتی میڈیا" کے تعاون سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد ایک آئینی حکومت کا تختہ الٹنا تھا لیکن سوڈانی عوام نے دشمن کی سازش ناکام بنا دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدرعمرالبشیر نے ان خیالات کا اظہار قوم سے براہ راست ٹیلی ویژن خطاب میں کیا۔ گذشتہ تین ہفتوں سے جاری ہنگاموں کے بعد صدرالبشیر کا قوم سے یہ پہلا خطاب ہے۔ صدر عمرالبشیرکا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہریوں کی زندگی پرکوئی منفی اثرنہیں پڑا ہے۔ قیمتیں بڑھانا محض ایک بہانہ تھا جس کی آڑمیں تخریب کار اور خائن لوگوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔

صدر البشیر نے ملک میں توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے میگا پروجیکٹ جلد شروع کیے جانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ دریائے عطبرہ اور اسٹیٹ" پر بند باندھ کر پن بجلی پیدا کرنے اور زرعی زمینوں کی سیرابی کے لیے ایک بڑا پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے جو جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ اس منصوبے سے کئی ملین افراد مستفید ہوں گے۔

سوڈانی صدرنے مزید کہا کہ حکومت سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کا عمل بھی جاری رکھے گی۔ امریکا کا ذکرکرتے ہوئے صدرالبشیرنے حسب روایت دبنگ لہجے میں کہا کہ "میں نے امریکیوں اور عالمی عدالت انصاف [آئی سی سی] کو کئی بار چیلنج کیا ہے۔ "آئی سی سی" اور امریکا مجھے دارفر میں قتل عام کے الزام میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں لیکن ان میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں۔ میں اپنی آزاد مرضی سے پوری دنیا میں گھومتا ہوں۔ اگر کسی میں جرات ہے تو مجھے گرفتار کر کے دکھائے"۔

انہوں نے کہا کہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانا چاہتا تھا مگر بزدل امریکیوں نے مجھے ویزہ نہیں دیا۔ ورنہ میں امریکیوں کو ان کی سرزمین پر للکارتا کہ "ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرکے دکھاؤ"۔ خیال رہے کہ سوڈان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تین ہفتے قبل اٹھنے والی احتجاجی لہرخونی تصادم میں تبدیل ہوتی چلی تھی، جس کے نتیجے میں کم سے کم 67 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے ہزاروں افراد کو حراست میں بھی لے رکھا ہے۔