.

حجاج کرام مناسک حج کے دوران بدعات سے اجتناب کریں: علماء

"جبل عرفہ، جبل النور، غار ثور کا طواف اور وہاں نوافل جائز نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جید علماء کرام نے حجاج کرام سے کہا ہے کہ وہ فریضہ حج کو قرآن وسنت کی صحیح تعلیمات کی روشنی میں ادا کریں اور اسے بدعات سے آلودہ ہونے سے بچائیں۔ علماء کا کہنا ہے کہ میدان عرفات میں جبل عرفہ پر بنے چبوترہ نما ستون کا طواف کرنا اور وہاں نماز کی ادائیگی کا شریعت میں کوئی جواز نہیں ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ غار ثٓور، جبل ثور اور جبل عرفہ وہ مقامات ہیں جہاں طواف اور نہ ہی نوافل کی ادائی کا کوئی جواز ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص اس جگہ کا طواف یا وہاں نوافل ادا کرتا ہے تو اس کا حج فاسد ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب کی جامعہ امام محمد بن سعود میں اسلامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر عقیل العقیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "غار حرا اور جبل ثور کی سمت نماز [نوافل] کی نیت سے جانا شرعا جائز نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی غار حرا ہی میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کے بعد آپ ایک دفعہ بھی دوبارہ اس غار کی جانب نہیں گئے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے باہر سے آنے والوں نے بہت سے مقامات کی زیارت اور وہاں پر عبادت کو حج کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن وہ غلطی پر ہوتے ہیں۔ فریضہ حج اور مناسک حج کے مخصوص اور معروف مقامات ہیں، ان سے ہٹ کرحج کی نیت سے جانا حج کو فاسد کرنے کے مترادف ہے۔

سعودی عرب کے ایک دوسرے سرکردہ عالم دین اور مذہبی پولیس کے سابق سربراہ الشیخ احمد الغامدی نے کہا کہ "کچھ لوگ تبرک کے طور پر مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے آس پاس کے مقامات میں جاتے ہیں۔ وہاں سے مٹی اٹھا کر تبرک ہی کے طورپر اپنے پاس رکھتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔ ان ہی بدعات میں جبل ثور، غار ثور، جبل عرفات اور کئی دیگرمقامات پر زائرین کی عبادت ہے۔ یہ سب بدعات ہیں اور ان سے حج اور عمرہ جیسے فرائض بھی فاسد ہوسکتے ہیں۔