.

سعودی عرب: 300 ہندوستانی حجاج کی رہ نمائی اور خدمت پر مامور

غیرملکی رضاکاروں کے لیے جدہ میں "کوآپریٹیو دفتر" قائم کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پہلے سے موجود مختلف ملکوں کے مسلمان باشندے بھی حج کا موسم میں اپنے ملکوں سے آنے والے عازمین حج کی خدمت کے لیے چوکس ہوجاتے ہیں۔ تارکین وطن کے جذبہ خدمت کو دیکھتے ہوئے سعودی حکومت بھی ان سے بھرپور تعاون لیتی ہے۔ اس بار باضابطہ طور پر جدہ میں ایک "کوآپریٹیو آفس" قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے حجاج کی رضاکارانہ خدمت کرنے کے خواہش مند تارکین وطن کو تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جدہ میں قائم "مرکز تعاون برائے غیر ملکی تارکین وطن" میں رواں موسم حج میں برصغیر کے 300 رضاکاروں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ رضاکار خطے سے حج پر آنے والے عازمین کی مدد کریں گے۔ حج کے دوران مناسک سے متعلق رہ نمائی، خوراک اور طبی ضرورتوں کا خیال رکھنا، معمر حجاج کی وہیل چیئرچلانے میں مدد کرنا، سعودی عرب کے اہم مقدس مقامات تک لے جانے میں مدد کرنا اور طواف کعبہ اور دیگر فرائض کے طریقہ کار کی آگاہی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

بھارتی رضاکاروں میں شمولیت سے علاقائی زبانوں میں ان کی مہارت کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ وہ خطے سے آنے والے تمام عازمین حج کی صحیح طور پر رہ رہ نمائی کرسکیں۔ یہی معیار دنیا کے دوسرے خطوں کے رضاکاروں کے لیے بھی مقرر کیا گیا ہے۔

تارکین وطن کے امدادی دفترکے ڈائریکٹرمنصور آل خیرات نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اہم وطن عازمین حج کی خدمات مختلف مسلمان ملکوں کے سعودی عرب میں مقیم شہریوں کی ایک دیرینہ خواہش رہی ہے۔ وہ کسی لالچ کے لیے ایسا نہیں کرتے بلکہ صرف ثواب کے لیے اپنے ہم وطنوں کی خدمت اور رہ نمائی کرنا چاہتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں غیر ملکی رضاکاروں کو منظم انداز میں استعمال نہیں کیا جاسکا لیکن اب انہیں سہولت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ ایک دفتر قائم کرلیا گیا ہے، جہاں حجاج کی خدمت میں غیرملکی شہریوں میں مقابلے کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں منصور الخیرات کا کہنا تھا کہ غیرملکی رضاکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں اور خطوں کی زبانوں پرعبور رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے حالات، نظم ضبط اور حج کے طریقہ کار سے بھی بخوبی آگاہ ہوں۔ اس لیے ہم علاقائی زبانوں کے حوالے سے ان سے خصوصی سوال پوچھتے ہیں۔ اس وقت جنوبی ایشیائی ممالک افغانستان، بھارت، پاکستان، بنگلادیش، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال کے رضاروں کی بڑی تعداد نے خدام الحجاج کے طور پر اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔ وہ اپنے ملکوں سے آنے والے ہم وطن حجاج کی خدمت کا شرف حاصل کر سکیں گے۔