.

سعودی ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز قائم مقام امیر حج مقرر

اللہ کے مہمانوں کو ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعوی عرب کے فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے رواں موسم حج میں ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو قائم مقام امیر حج مقرر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قائم مقام امیر حج مقرر ہونے کے بعد اب حجاج کے آرام و راحت اور ان کی تمام ضروریات کی نگرانی، حج کمیشن کے سربراہ اجلاسوں میں شرکت اور حج پرآئے مختلف مسلم ممالک کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقاتوں کا اختیار بھی ولی عہد کو سونپا گیا ہے۔

خادم الحرمین الشریفن کی نگرانی میں 1434ھجری کے حج کے موقع پر اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے ہرممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ضروریات سے لے کر حجاج کی طبی ضرورتوں کا بھرپور خیال رکھا جا رہا ہے۔

حجاج کی خدمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے دو درجن سے زیادہ ادارے صرف حجاج کی خدمت میں چوبیس گھنٹے مصروف عمل ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حجاج کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 95 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ان میں چالیس ہزار اہلکار خصوصی تربیت یافتہ یونٹوں سے لائے گئے ہیں۔

وزارت صنعت وتجارت کی جانب سے غذائی مواد کی بروقت فراہمی کے لیے 2000 گاڑیاں اور مقامات مقدسہ میں 141 بڑے "ڈی فریزر" فراہم کیے گئے ہیں۔ منیٰ میں 51، عرفات میں 80 اور مزدلفہ میں 10 فریزر دیے گئے ہیں۔

حجاج کرام کی خوارک کی تیاری اور ترسیل کے لیے مجموعی طور پر 430 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ منیٰ میں 260، عرفات میں 100 اور مزدلفہ میں 70 مراکز قائم ہیں، جہاں سے حجاج کرام با آسانی خوراک حاصل کرسکیں گے۔

وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حج کے دوران مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے والے 1000 علماء اور مترجمین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو حجاج کرام کی رہ نمائی کریں گے۔