.

لیبی اخوان مصر میں ہونے والا تنظیمی نقصان کم کرنے کے لیے کوشاں

طرابلس، اخوان المسلمون کے لیے کی امید کی نئی کرن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا میں مذہبی سیاست کی سرخیل سمجھی جانے والی تنظیم اخوان المسلمون مصر میں تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے جبکہ بعض ممالک جماعت کے لیے اب بھی پرسکون پلیٹ فارم ثابت ہو رہے ہیں۔ اخوان المسلمون کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ لیبیا کی اخوان المسلمون مصر میں جماعت کو ہونے والے سیاسی نقصان کے ازالے کی کوشش کر رہی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لیبی وزیراعظم علی زیدان کا اغوا اور اس میں اخوان المسلمون کے حامیوں کے ملوث ہونے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ لیبیا میں اخوانی کارکن کتنے طاقتور ہیں۔ اخوان المسلمون کے مقربین کے ہاتھوں وزیراعظم جیسے ہائی پروفائل لیڈر کا اغواء جماعت کے مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ وہ یہ کہ جماعت اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے صرف جمہوری طریقے ہی نہیں بلکہ ہر وہ راستہ اختیار کرسکتی ہے جس سے تنظیم کے مفادات کا حصول ممکن ہو۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اپنے بیس کیمپ مصر میں کاری ضرب لگنے کے بعد جماعت متبادل ٹھکانے کی تلاش میں ہے۔ مشکلات کے باوجود اخوان کو امید ہے کہ وہ خطے میں اپنا کھویا ہوا اثر و نفوذ اور وقارجلد ہی دوبارہ حاصل کرلے گی۔ لیبی وزیراعظم کا اخوان کے مقربین سابق باغیوں کے ہاتھوں اغواء اور پھر رہائی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اخوان المسلمون خطے میں اپنا سیاسی اثرو نفوذ بحال کرنے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہے۔

گذشتہ تین سال کے دوران عرب بہاریہ کا شکار ہونے والے ملکوں مصر، تیونس، لیبیا اور شام میں اخوان المسلمون کا سیاسی اثر و نفوذ بالکل واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مصر میں تو مکمل ایک سال تک اخوان المسلمون ملک کے سیاہ وسفید کی مالک بنی رہی ہے جب تک فوج نے تین جولائی کو ٹیک اور کرکے جماعت کو سیاسی میدان سے بے دخل کردیا۔

تیونس میں بھی اخوان المسلمون کی ہم خیال تحریک النہضہ کے خلاف کئی ماہ سے تحریک چل رہی ہے۔ سوڈان میں صدر عمرالبیشر کو ہلا دینے والے احتجاج کے بعد وہاں پر بھی اخوان الملسمون کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

بہرحال اس وقت لیبیا اخوان المسلمون کی امیدوں کا اگلا مرکز ہے۔ اگرچہ لیبیا کے پارلیمانی انتخابات میں اخوان کے حامیوں کی شکست اور ایک غیر اخوانی لیڈر کا وزارت عظمیٰ کے عہدے تک پہنچنا جماعت کے لیے کسی خسارے سے کم نہیں ہے تاہم طرابلس میں اخوان المسلمون کے لیے میدان صاف اور کھلا ہے۔ وہاں پر جماعت کے سامنے وہ پابندیاں نہیں ہیں جو مصر میں درپیش ہیں۔