پاکستانی طالبہ ملالہ نوبل انعام نہ جیت سکی

نوبل انعام کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کے نام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اوسلو میں جمعہ کے روز ہونے والے امن کے نوبل انعام کو جیتنے کی دوڑ میں بہت سے ادارے اور شخصیات شامل تھیں جنہوں نے شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔

اسی حوالے سے ایک نام پاکستان کی طلبہ ملالہ یوسف کا بھی تھا لیکن اس بار یہ انعام او پی سی ڈبلیو نامی ایک تنظیم نے اپنے نام کر لیا۔ بنیادی طور پراس تنظیم کا کام کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا ہے۔ یہی وجہ ہے اب یہ ایوارڈ تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار کو دیا گیا.

او پی ڈبلیو سی کے نمایاں کارناموں میں سے ایک حالیہ کارنامہ مشرق وسطیٰ میں شام کے اندر پھیلے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا ٹاسک بھِی ہے۔ واضح رہے کہ شام میں خانہ جنگی کی صورتحال ہے اور ماضی قریب میں کیمیائی حملوں کے نتیجے میں 1400 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

رواں سال نوبل امن انعام کے لیے 259 امیدوار تھے جن میں پچاس سے زائد مختلف تنظیمیں بھی شامل تھیں اور اس انعام کی رقم بارہ لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر ہے۔دس دسمبر 2013 کو انعامی رقم اس ادارے کے سپرد کی جائے گی۔

پاکستانی طالبہ کے علاوہ کانگو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈینس موکویج بھی اس انعام کے لیے ایک مضبوط امیدوار تھے۔

واضح رہے کہ امن کا نوبل انعام نائجیریا کی مشہور صنعتی شخصیت الفریڈ نوبل کے نام سے منسوب ہے اور اس کے بانی خود الفریڈ نوبل ہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں