.

'' مس یونیورس'' کیخلاف محبت کی یادگار کی توہین کرنے کا مقدمہ

تاج محل میں کسی مخصوص برانڈ کی تصاویر بنانا جرم ہے: بھارتی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہندوستان میں مغل بادشاہ شاہ جہان کی طرف سے اپنی ملکہ کیلئے بنوائے جانے والے خوب صورت تاج محل کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر "مس یونیورس" کے خلاف بھارتی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مس یونیورس نے تاج محل میں اجازت کے بغیرایک مخصوص برانڈ کے جوتوں کی تصاویر بنائی تھیں۔ بھارت کے متعلقہ حکام کے مطابق مس یونیورس کا یہ عمل محبت کی اس یادگار کی توہین کے مترادف ہے ۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ دوشیزہ اولیویا کلپو آج کل دس روزہ دورہ پر بھارت میں ہیں۔ اسی دوران محبت کی اس تاریخی یادگار کے نام سے پہچانے جانے والے دنیا کےعجوبے میں ایک فوٹو شوٹ کے دوران ایک لمبا اور دلکش ہلکے گلابی رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔

تاج محل کے قوانین کی خلاف ورزی کی خبر ملنے پر نئی دلی سے 180 کلومیٹر جنوب میں واقع آگرہ ٹورزم پولیس سٹیشن کے سوشانت گور نے عالمی خبررساں ادارے کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "شکایت موصول ہونے پر انہوں نے مس یونیورس " اولیویا کولپو اور انکی ٹیم کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ'' ہم نے آثار قدیمہ و کھنڈرات ایکٹ کے مطابق ان پر متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیے ہیں ۔''

کلپو نے ڈیانا سیٹ کے نام سے معروف جگہ پر بیٹھ کر فوٹوگرافروں کیلئے برانڈڈ جوتوں کے ساتھ خصوصی پوز بنائے۔ یاد رہے کہ ڈیانا سیٹ محل کے سامنے سنگ مرمر سے بنی ایک جگہ ہے، جو برطانوی شہزادی ڈیانا کے 1992ء کے دورہ تاج محل کے موقع پر انکے نام سے منسوب کر دی گئی تھی۔

آثارقدیمہ کے بھارتی شعبے کے ایک ذمہ دار این۔ کے۔ پاٹھک نے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ'' تاج محل میں بغیر اجازت کے کسی قسم کا فوٹو شوٹ یا کسی برانڈ یا کمپنی کی مشہوری کرنا منع ہے اور اسکے متعلق واضح قوانین ہیں۔''

انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی نژاد فیشن ڈیزائنر سنجنا جون، جو مس یونیورس کوتاج محل لائی تھیں، ان کے خلاف بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرنا صرف ایک بنیادی اقدام ہے اور ضروری نہیں ہے کہ یہ معاملہ عدالت تک پہنچے گا۔

مسلم مغل بادشاہ شاہ جہان نے اپنی اہلیہ نور جہاں کیلئے یہ عالی شان تاج محل 1648ء میں تعمیر کروایا۔ یہ برصغیر کی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا کیلئے ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی لیے محل کا دورہ کرنے والوں کیلئے لازم ہے کہ وہ اس کا دورہ کرتے ہوئے اپنی جوتیاں اتار کر جائیں۔ یاد رہے کہ تاج محل کی سیر کیلیے آنے والے خواتین و حضرات اس تریخی جگہ سے منسلک باغات میں واقع ڈیانا سیٹ کے پاس جوتے پہن کر چل پھر سکتے ہیں مگر تاج محل کے اندر جوتوں سمیت جانے کی اجازت نہیں ہے۔