امریکی صدر اور خاتون اول کی جانب سے ملالہ کی ہمت کو خراج تحسین

واشنگٹن میں ملالہ یوسف زئی کی امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عالمی سطح پر ایک علامت تصور کی جانے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما سے ملاقات کی۔

گزشتہ برس 09 اکتوبر کو طالبان کے ایک حملے میں زخمی ہونے والی 16 سالہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی ان دنوں امریکا میں ہیں، جہاں وہ اپنی کتاب ’آئی ایم ملالہ‘ یا ’میں ملالہ ہوں‘ کو متعارف کروانے میں مصروف ہیں۔

جمعہ کے روز صدر اوباما سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے اس ملاقات میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے پر ملالہ یوسف زئی کا شکریہ ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما اور ان کی اہلیہ نے اس ملاقات میں ملالہ کی ہمت اور جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔

واضح رہے کہ ملالہ یوسف زئی طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں اور انہیں پاکستان میں طبی امداد دی گئی تھی جبکہ بعد میں انہیں برطانیہ کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور وہ تب سے برطانیہ ہی میں مقیم ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے: ’امریکا لڑکیوں کی تعلیم کے حق اور ان کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے ملالہ کی ہمت اور کوششوں میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

مشیل اوباما نے اس موقع پر کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ خرچ کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے صرف لڑکیوں کے ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کے مستقبل کو سنوارا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل ملالہ یوسف زئی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے منعقد کردہ ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ کی ورلڈ بینک کے ساتھ ایک نیم سالانہ ملاقات میں شرکت کی۔

ملالہ یوسف زئی نے اس اجلاس میں بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو دنیا میں پہلی ترجیح دی جانا چاہیے۔ اس اجلاس میں ملالہ کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک صحت اور ایڈز کے حوالے سے زیادہ سرمایہ خرچ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر عالمی بینک کے سربراہ جم یونگ کم نے ملالہ کو ’امید کا ایک طاقتور نشان‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ ملالہ یوسف زئی کو رواں برس کے نوبل امن انعام کے لیے پسندیدہ ترین قرار دیا جا رہا تھا، تاہم گزشتہ روز یہ انعام شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی میں مصروف عالمی تنظیم OPCW کو دیے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں