.

متحدہ عرب امارات، غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی بحث شروع

بحث کا آغاز حکمران خاندان کے سلطان سعود القاسمی نے کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی تعمیر و ترقی میں طویل عرصے سے کردار ادا کرنے والے تارکین وطن کو متحدہ عرب امارات کی شہریت دینے کے حق میں حکمران خاندان کی اہم شخصیت اور سوشل میڈیا کے حوالے سے غیر معمولی طور پر موثر سمجھے جانے والے سلطان سعود القاسمی کی طرف سے شروع کی جانے والی بحث ان دنوں زور پکڑ گئی ہے۔ سلطان سعود القاسمی کے مطابق متحدہ عرب امارات میں اپنی زندگیاں لگا دینے والوں کو قبول کرنے کا موقع پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ان کے ناقدین نے بھی بڑے اہم اور حساس نکات اٹھائے ہیں۔

عمومی ردعمل جو امارات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی طرف سے سامنے آیا ہے وہ امارات کے وسائل غیر ملکیوں کی آسائش پر خرچ ہونے کا احتمال ہے۔ انہیں یہ بھی خوف ہے کہ متحدہ عرب امارات ہر سال اپنے شہریوں کی تعلیم ، صحت اور رہائشی سہولیات میں آسانی دینے کیلیے جس قدر اربوں ڈالر کے اخراجات برداشت کرتی ہیں،غیر ملکیوں کے لیے شہریت کا دروازہ کھولنے سے ان مدآت میں اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔

یہ اعتراض کرنے والوں کی فکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 1950 میں تیل کی دریافت سے تیزی سے امیر ہونے والی ان ریاستوں میں ان اپنے باسیوں سے زیادہ تعداد اب غیر ملکیوں کی ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں شہریت دینے کا مطلب بعد ازاں سیاسی حقوق دینے کا مطالبہ ابھارنے کے مترادف ہو گا۔

ایک اعتراض یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ امارات جہاں خاندانی بادشاہتوں کے نظام پر مقامی لوگ مطمئن دکھائی دیتے ہیں، ضروری نہیں کہ غیرملکیوں کو شہریت مل جائے تو وہ اس سیاسی اور حکومتی ترتیب پر اثر انداز نہ ہونا چاہیں گے۔

ان کے مقابلے میں سلطان سعود القاسمی عرب امارات کی مستقبل کی ضروریات اور مسائل کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں، سائنسدانوں، ماہرین تعلیم اور محنت کے عادی افراد کو امارات میں شہریت کی ترغیب دینے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ غالبا اس کی ایک وجہ ان کا حکمران خاندان سے تعلق کی بنیاد پر امارات کے آئندہ دنوں میں حقیقی مسائل کا ادراک کا حامل ہونا بھی ہے۔ کہ تیل کے مسلسل استعمال کے بعد بھی ترقی اور خوشحالی کے اس سفر کو جاری رکھنا ضروری ہے۔

لیکن ان کے ناقدین کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ مسٹر قاسمی نے اپنی یہ تحریر گلف نیوز میں انگریزی زبان میں لکھ کر غیر ملکیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ معترضین نے امارات کے روائتی قبائلی نظام کو پہلے سے موجود لاحق اندیشوں کے ماحول میں اس بحث کو ملک کے نظام حکمرانی کیلیے ایک اور برا شگون قرار دیا ہے۔

ناقدین نہیں چاہتے کہ تیل کی دریافت کے ابتدائی برسوں میں بڑے شہروں کے باہر خیموں میں رہتے ہوئے امارات کی ترقی میں مزدوروں کے طور پر کام کرنے والے برابر کے شہری قرار پائیں۔

ایک ایسے ماحول میں جبکہ 2011 میں حکومت پہلے ان غیر ملکیوں کے بچوں کو شہریت دینے پر آمادگی ظاہر کر کے درخواستیں طلب کر چکی ہیں جن کی مائیں اماراتی شہری ہیں۔ غالبا وہ اس فیصلے کو بھی امارات کی ہزار سالہ تاریخ میں ملاوٹ سمجھتے ہیں۔

ٹوئٹر پر اڑھائی لاکھ ''فالورز'' رکھنے والے مسٹر قاسمی کے ناقدین میں ٹوئٹر کے صارفین بھی شامل ہیں۔ انہی میں سے ایک سیف النیادی کا دوٹوک کہنا ہے کہ '' اپنے ملک کے وسائل غیر ملکیوں کی آسائش پر خرچ نہ کیے جائیں۔''

اس کے مقابلے میں ایک سیاسی ماہر عبدالخالق عبداللہ نے سلطان سعود القاسمی کی حمایت کرتے ہوئے کہا '' میں ایک بہادر شخص کو پسند کرتا ہوں جس نے بر سرعام بہادری سے اپنا موقف پیش کیا ہے، سلطان القاسمی ہمارے لیے ایک ماڈل ہیں۔'' لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سلطان القاسمی کے حق میں اٹھنے والی آوازیں کم ہیں اور مخالفت میں زیادہ لوگ ہیں۔

غیر ملکی تارکین وطن کو متحدہ عرب امارات کی شہریت ملنے یا نہ ملے کا فیصلہ ہونے میں بہت وقت لگے گا، تاہم ایک بحث کا آغاز ضرور ہو گیا ہے۔