منیٰ میں حجاج کرام کے اُمڈھتے سمندر کے لیے تمام سہولیات مکمل

مقامات مقدسہ میں 23 لاکھ حجاج کے لیے طعام وقیام کے انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بیت اللہ کی زیارت اور فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے لاکھوں فرزندان توحید کی مکہ معظمہ آمد کے ساتھ ہی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر حجاج کو سہولیات کی فراہمی کے انتظامات کیے ہیں۔ اس وقت حجاج کرام کی بڑی تعداد مسجد حرام میں موجود ہے لیکن حجاج یوم ترویہ کے لیے وادی منیٰ کی طرف بڑھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ریاض حکومت نے منٰی، مزدلفہ، عرفات اور حرم مکہ میں تئیس لاکھ حجاج کرام کے قیام وطعام کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری آٹو یونین کے ترجمان مروان رشاد زبیدی نے بتایا کہ حجاج کرام کی خدمت پر مامور تمام اداروں کی مشترکہ کمیٹی نے حجاج کے مقامات مقدسہ کی جانب سفر اور وہاں پر انتظامات کا حتمی جائزہ لیا ہے، جس کے بعد تمام انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حجاج کرام کی خدمت کے لیے وزارت ٹرانسپورٹ، وزارت حج، وزارت مذہبی امور، جنرل سیکیورٹی فورسز اورحجاج کی نقل وحرکت کو بروقت یقینی بنانے سے متعلق ادارے کے ارکان پر مشتمل کمیٹی چوبیس گھنٹے مصروف عمل ہے جو ہر لحظہ حجاج کرام کی ضروریات کا خیال رکھنے اور حجاج کو بروقت ہرسہولت مہیا کرنے کی ذمہ دار ہے۔

مستر زبیدی نے بتایا کہ اب تک فضائی، بحری اور بری راستوں سے کم سے 13 لاکھ 25 ہزار حجاج کرام سر زمین حجاز میں پہینچ چکے ہیں۔

منیٰ میں حاجیوں کے قیام و طعام کی سہولت سے متعلق سوال کے جواب میں سعودی عہدیدارنے کہا کہ "مسجد حرام سے وادی منٰی کی جانب حجاج کرام ایک ساتھ سفرشروع کریں گے۔ حکومت حجاج کو بسیں بھی فراہم کرے گی۔ رات کے قیام اور طعام کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ اللہ کے مہمانوں کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہو گی اور ان کی ہر ضرورت فورا پوری کی جائے گی۔ منیٰ کی طرح عرفات میں بھی حجاج کے لیے نصب کردہ خیموں میں تعداد کے مطابق نشستیں محفوظ کی گئی ہیں اور ان کے طعام کا بھی بندوبست موجود ہے۔

سعودی ٹرانسپورٹ یونین کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حجاج کرام کو ان کے خِطوں کے اعتبار سے تقسیم کرنے کے بعد ان کے نقل و حمل کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ترکی، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا، غیرعرب افریقی ممالک اور ایران کے پانچ لاکھ 63 ہزار حجاج کرام کے لیے چار الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں حاجیوں کی بروقت مناسک کی ادائی میں ان کی مدد کریں گی۔ جنوبی ایشیا اور عرب ممالک کے 7 لاکھ 50 ہزار حجاج کرام کے لیے دو ادارے خدمت پر مامور ہیں۔

میدان عرفات میں 500 بسوں کو پیچھے رہ جانے والے حجاج کرام کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان بسوں کو صرف اس وقت حرکت میں لایا جائے گا جب یہ اندیشہ ہو کہ عرفات کی طرف آنے والے حجاج کرام کے قافلے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں کم وبیش تئیس لاکھ حجاج کرام کے استقبال کی تیاریاں، ان کی خوراک اور طعام و قیام سمیت بنیادی ضرورت کی ہرچیز مہیا کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں