''ایران کی نئی خارجہ پالیسی''؟ اسرائیل مخالف کانفرنس منسوخ

یہ اقدام ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق عالمی رائَے تبدیل کرنے کیلیے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی زیر قیادت حکومت نے خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے اسرائیل مخالف کانفرنس منسوخ کر دی ہے۔ اس ایرانی اقدام کو ایران کی نئی سفارتی نقشہ گری اور مغرب کے ساتھ تعلقات بحالی کی حالیہ کوششوں کا حصہ ہے۔

اسرائیل مخالف سالانہ کانفرنس کا آغاز 2005ء میں ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کیا تھا جو بعد ازاں ان کی حکومت کی ایک اہم سرگرمی بنی رہی۔ اس کانفرنس میں سابق صدر کے موقف کے مطابق اسرائیلی جارہیت پر روشنی ڈالی جاتی تھی اور اسرائیل مخالف کے ناجائز ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مظالم کو زیر بحث لایا جاتا تھا۔

2005ء میں پہلی کانفرنس کے آغاز پر سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل مخالف رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینا چاہیے۔ ایک اور جگہ پر انہوں نے'' ہولوکاسٹ'' کوایک من گھڑت کہانی قرار دیاتھا جو اسرائیلی حکومت کی لیے سخت ناقابل قبول اور تکلیف دہ بات تھی۔

جہان نیوز نامی ایرانی ویب سائیٹ کے مطابق گزشتہ روز وزارتِ خارجہ نے تہران میں ہونے والی اس کانفرنس کی سالانہ سر گرمی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس کانفرنس کا انعقاد ایرانی حکومت کی ان کوششوں کے منافی تھا جو وہ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے شروع کیے ہوئے ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد روحانی نے جو پیغام اقوام متحدہ پلیٹ فارم سے مغربی ممالک کیلئے بھیجااس پیغام کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اِی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ مبصرین کے مطابق جب تک سپریم لیڈرکی حمایت روحانی کے ساتھ ہے، تب تک مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے ایران کا سخت گیر طبقہ صدر روحانی پر ایران کے نظریات کو بیچ کھانے کے الزامات بھی لگا رہے ہیں۔
''نئے افق'' کے نام سے جانی جانے والی اسرائیل مخالف کانفرنس کے ایک منتظم نے کانفرنس کے منسوخ ہونے کو ایک "بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ'' صیہونی مخالف کانفرنس کا منسوخ ہونا ایک بڑی تباہی ہے۔'' ایک اور ایرانی

ویب سائیٹ میں اس کانفرنس کے ایک منتظم "نادر طالب زادے " نے منسوخ کی گئی اس کانفرنس کو ایران کی سب سے بڑی اور اسرائیل مخالف طاقتور کانفرنس قرار دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ستمبر یا اکتوبر کے اوائل میں کانفرنس میں 63 بین الاقوامی سکالر اور 50 مقررین نے تقاریر کرنا تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے بین الاقوامی مہمانوں کو مئی سے بلانا شروع کیا ہوا تھا جب محمود احمدی نژاد صدر تھے۔

صدر روحانی کی پالیسیوں میں تبدیلی کا مقصد ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ان پر لگائی جانے والی بین الاقوامی پابندیاں ختم کرانا ہے۔ نئے صدر کی جانب سے ایرانی موقف میں کافی تبدیلی آنے کے بعد اگلے ہفتے امریکہ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ جینیوا میں مذاکرات کا دوبارہ سے آغاز ہوگا ۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان مذاکرات میں ایران کی جانب سے کیسی تجاویز سامنے آئیں گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران ، ایٹمی ایندھن بنانے میں کامیابی کے بعد ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہوجانےگا۔ اس وجہ سے اسرائیل اور مغربی دنیا سخت خوف زدہ ہے، تاہم ایران اپنے اس موقف کی تردید کرتا چلا آ رہا ہے کہ اسکا ایٹمی پروگرام ہتھیار بنانے کیلئے ہے بلکہ اس دعوی ہے کہ اس جوہری پروگرام طبی اور ایندھن کی ضروریات کیلے ہے۔

لیکن صیہونی ریاست ایران کو اپنی بقا کیلئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے کیونکہ سابق ایرانی صدر متعدد مرتبہ اسرائیل کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اسکے ساتھ لبنان کی حزب اللہ جیسے اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کرنے اور انکے دورتک مارکرنے والے میزائل پروگرام نے بھی اسرائیل کی نیند اڑا دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں