.

انسانی اسمگلر غیر قانونی حاجیوں سے 15 ہزار ریال یومیہ بٹورنے لگے

اسمگلنگ واٹر ٹینکروں، ڈی فریزر اور کاروں کے ذریعے ہوتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں شہریوں اور وہاں مقیم تارکین وطن کو غیر قانونی طریقوں سے حج میں شریک کرانا ایک گھناونا کاروبار بن چکا ہے جس میں انسانی سمگلروں کا ایک مافیا ملوث ہے۔ سعودی حکومت نے ملک کے تمام بری اور بحری داخلی راستوں کی سیکیورٹی سخت کر دی ہے جس کے باعث انسانی اسمگلنگ کے دھندے میں ملوث عناصر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ایسے گروپ آج بھی موجود ہیں جو چور دروازوں سے دوسرے ملک کے شہریوں کو بھاری معاوضے کے عوض مکہ مکرمہ تک پہنچانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ مجموعی طور پرایک انسانی اسمگلر کو یومیہ پندہ ہزار ریال کی رقم با آسانی مل جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے انسانی سمگلر پُرخطر اور دشوار گذار راستوں سے غیر ملکی باشندوں کو مکہ مکرمہ پہنچانے ہیں۔ سعودی عرب میں پہنچائے جانے کے بعد لوگوں کو واٹر ٹینکوں، ٹیکسیوں اور بڑے فریزر میں رکھ کر مکہ مکرمہ پہنچایا جاتا ہے۔ مال برادر ٹرکوں میں سامان کی اڑ میں ایک شخص سے دو ہزار جبکہ عام کار کے ذریعے لائے جانے والے شکار سے پانچ ہزار ریال بٹورے جاتے ہیں۔ اسملگر اور غیر ملکی شہری کے درمیان پہلے ہی یہ طے پا جاتا ہے کہ سیکیورٹی حکام کے ہاتھوں پکڑے جانے کی صورت میں ذمہ داری اسمگلر کی نہیں ہو گی اور وہ پولیس کو اپنے بیان میں یہ بتائے گا کہ اس شخص نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔

انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث ایک کارندے نے سعودی اخبار"الشرق" کو بتایا کہ بارڈر کے داخلی راستوں اور کراسنگ پوائنٹس پر سیکیورٹی سخت ہوتی ہے۔ اس لیے ہم لوگ ایسے مقامات سے راستے تلاش کرتے ہیں جہاں سیکیورٹی حکام کی نظر نہ پہنچ سکے۔ ایسے چور دروازوں سے سعودی عرب منتقل کیے جانے کے بعد جدہ اور وہاں سے مکہ مکرمہ تک پہنچانے کے لیے ایک شخص سے دو سے پانچ ہزار ریال وصول کیے جاتے ہیں۔ واٹرٹینکوں یا ڈی فریزر میں ڈال کرلائے جانے والوں سے دو ہزار اور ٹیکسی کے ذریعے آنے والوں سے پانچ ہزار ریال لیے جاتے ہیں۔

اسمگلر سے جب پوچھا گیا کہ وہ کاروں کے ذریعے سڑکوں پر چلتے ہوئے سیکیورٹی حکام سے کیسے بچ نکلتے ہیں؟ تو اس کا کہنا تھا کہ "ہمیں اس کے کئی طریقے آتے ہیں۔ ہمیں راستوں پر چیک پوسٹوں کا علم ہوتا ہے۔ اس لیے ہم راہ چلتے ہوئے چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر سواری کو پٹرول پمپ پر ایندھن ڈالنے کے بہانے اتار دیتے ہیں۔ ٹیکسی کو چیک پوسٹ سے خالی گذار نے کے بعد پیچھے سے پیدل آنے والے شخص کو دوبارہ بٹھا لیا جاتا ہے۔ جدہ سے مکہ جاتے ہوئے راستے میں "الزائدی" چیک پوسٹ ہی پرگاڑیوں کوروک کر تلاشی لی جاتی ہے۔ لہٰذا چیک پوسٹ کے قریب پٹرول پمپ پر کار کھڑی کر کے سواری کو اتار دیا جاتا ہے اور اگلے مقام سے اسے پھر بٹھا لیا جاتا ہے۔ اس طرح ہم اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔

اسمگلرنے بتایا کہ ہم میں سے بعض لوگ حج کمپنیوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ جن کے پاس حاجیوں کو قانونی طریقے سے سعودی عرب لانے کے پرمٹ بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ پرمٹ دکھا کر آگے چل پڑتے ہیں۔ اس طرح ایک شخص کوجدہ یا کسی بھی دوسرے مقام سے مکہ مکرمہ تک پہنچانے کے ہمیں ایک دن میں پندرہ ہزار ریال تک مل جاتے ہیں۔ یہی ہمارے کمانے کا موسم ہوتا ہے اور یہی ہمارے رزق کے حصول کا راستہ ہے۔

اسمگلر نے بتایا کہ جب سے سرحدی چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی سخت ہوئی ہے ہم نے اپنی قیمت بھی دوگنا کر دی ہے کیونکہ پکڑے جانے کی صورت میں اس جرم میں قید کی سزاء کے ساتھ کم سے کم دس ہزار ریال جرمانہ بھی ہوتا ہے اور گاڑی بھی ضبط ہو جاتی ہے۔

یمن سے غیر قانونی طریقے سے مکہ آنے والے علی نامی ایک شخص نے بتایا کہ اس نے سرحد عبور کرنے کے بعد حرم شریف تک پہنچنے کے لیے اسمگلر کو تین ہزار ریال دیے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ کل پندرہ افراد کا ایک گروپ لے کر سعودی عرب میں دور دراز علاقوں سے داخل ہوئے اور ایک ہی ویگن کے ذریعے ہم مکہ مکرمہ پہنچے ہیں۔