.

لاکھوں عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے خیموں کے شہر منیٰ روانہ

بیرون ملک سے حجاج کی آمد مکمل، سعودی حاجیوں کی تعداد میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماع حج کے مناسک کا آغاز ہوگیا ہے۔ حجاج کرام مکہ مکرمہ سے آٹھ کلومیڑ دور منیٰ کی خیمہ بستی روانہ ہونا شروع ہو گئے۔ لبیک اللھم لبیک کی روح پرور صدائیں مکہ مکرمہ اور منیٰ میں گونج رہی ہیں۔ دنیا کی مختلف اقوم سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر ہو کراللہ عزوجل کے دربار میں حاضر ہیں۔

عازمین حج آج کی شب منیٰ میں قیام کرکے کل 9 ذی الحج کو صبح فجر کے بعد عرفات کے لیے روانہ ہوں گے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کیا جائے گا۔ حج کا خطبہ بھی عرفات کے میدان میں دیا جاتا ہے۔ عرفات میں وقوف کے بعد حجاج کرام رات مزدلفہ میں گزاریں گے جس کے بعد 10 ذی الحج کو دوبارہ منیٰ پہنچیں گے۔ منیٰ میں حجاج کرام پہلے دن بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد قربانی کرکے سر منڈوا کر یا بال کٹوا کر احرام کھول دیں گے۔ ان مناسک کے بعد حجاج کرام مزید 2 یا تین راتیں منیٰ میں گزاریں گے۔

حج انتظامات مکمل

ادھر سعودی حکومت نے ہفتے کے روز حجاج کرام کی بیت اللہ اور وہاں سے مقدس مقامات تک رسائی کے لیے تمام انتظامات کے مکمل ہونے کا اعلان کیا ہے جس کے ساتھ بیرون ملک سے حجاج کرام کی آمد کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے تاہم اندرون ملک سے عازمین حج کی آمد کا سلسلہ آٹھ ذی الحج کو بھی بدستور جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس وجہ سے اندرون ملک سے حجاج کرام کی مقررکردہ تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی حکام اور حج آپریشن میں شامل دیگر اداروں کی جانب سے حجاج کرام کی منٰی کی جانب منتقلی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور انہیں یوم ترویہ کے لیے چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں منی پہنچانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

منیٰ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل منصور الترکی نے کہا کہ "ہم نے اللہ کے مہمانوں کو مقدس مقامات تک پہنچانے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ اب ہم یوم ترویہ کے لیے حاجیوں کو منیٰ کی طرف اور وہاں سے نو ذی الحج کو میدان عرفات کی طرف لے جانے کے بنیادی پروجیکٹ پرکام شروع کر رہے ہیں"۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل الترکی کا کہنا تھا کہ حجاج کرام کی تعداد کے بارے میں پہلے وضاحت کی جا چکی ہے۔ اندورن ملک سے پچاس فی صد اور بیرون ملک سے بیس فی صد افراد کو حج پرآنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے لیکن اندرون ملک سے حجاج کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ حجاج کی حتمی تعداد کا اعلان عیدا الاضحٰی کے دن متعلقہ محکمے جنرل انفارمیشن و ادارہ شماریات کرے گا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنی نیوز کانفرنس میں خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی کاوشوں سے حرم کی توسیع کے منصوبے کا خاص طور پر ذکرکیا۔ انہوں نے کہا کہ توسیع کے جاری منصوبے کے باعث حجاج کرام کی تعداد کم کرنا پڑی ہے لیکن یہ تاریخ کی یادگار توسیع ہے جس کی تکمیل کے بعد حجاج کرام کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔

سیکیورٹی سےمتعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حجاج کی آمد کے بعد سے اب تک کوئی ایسا قابل ذکر ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ انہیں خوشی ہے کہ اندرون اور بیرون ملک سے آنے والےعازمین حج ریاض حکومت کے وضع کردہ قواعد وضوابط کی پابندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حج کے موقع پر گڑ بڑ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سیکیورٹی ادارے ایسے مشکوک افراد پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں جو مقدس عبادت کے دوران کسی قسم کا خلل پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگرایسا کوئی واقعہ پیش آیا تواس کے مرتکب کودیگرسزاؤں کے ساتھ دس سال تک کے لیے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی بھی لگا دی جائے گی۔