.

حاجنوں کی دیکھ بحال کے لیے مکہ میں 5900 نرسیں تعینات

طبی خدمات انجام دینے والے عملے میں 1657 سعودی خواتین شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے حجاج کرام کی ہر سطح پر خدمت کے لیے جنگی بنیادوں پرانتظامات کر رکھے ہیں۔ حاجنوں کی طبی ضروریات کے پیش نظر مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے آس پاس چارے بڑے اسپتالوں اور60 چھوٹے مراکز صحت میں 5900 نرسیں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر خدمت پر مامور ہیں۔ ان میں 1657 سعودی عرب کی خواتین ڈاکٹر اور نرسیں بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اندرون اور بیرون ملک سے مکہ مکرمہ آنے والے حجاج کی خدمت پر مامور نرسیں مناسک حج کے اختتام تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گی۔ خواتین حاجنوں کی سہولت کے لیے مسجد حرام کے قرب وجوار، مقامات مقدسہ منٰی، عرفات اور مزدلفہ میں خواتین کے لیے چار بڑے اسپتال اورساٹھ چھوٹے طبی مراکز اور ڈسپنریاں قائم کی گئی ہیں۔

حجاج کی خدمت پر مامور بیشتر نرسیں ماضی میں بھی حج کے موسم میں مختلف اسپتالوں میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اللہ کے مہمانوں کی طبی نگہداشت کا پہلے ہی اچھا خاصا تجربہ رکھتی ہیں، تاہم ان میں ایسی بھی ہیں جنہیں پہلی مرتبہ اس ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے۔

منیٰ کے ایک اسپتال میں متعین تغرید النشاور بھی ایسی ہی ایک خاتون ڈاکٹر ہیں جو پہلے بھی حاجنوں کا علاج کرچکی ہیں۔ خواتین ڈاکٹروں کی زیر نگرانی بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نوعیت کے کیسز نمٹانے کے علاوہ مریضوں کے داخلے کی سہولت بھی موجود ہے۔ بیمار حاجنوں کی ضرورت کے پیش نظر اسپتالوں میں 550 بیڈ فراہم کیے گئے ہیں۔