.

مشرقی بھارت میں ’سپر سائيکلون‘ کی زد میں آ کر 20 افراد ہلاک

متعدد لاپتا، چھے لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

'سپر سائيکلون‘ کہلانے والا طاقتور سمندری طوفان بھارتی ریاست آندھرا پردیش اور اڑیسہ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں20 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا ہوگئے جبکہ6 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

'پائیلن' نامی اس سمندری طوفان کو تاحال ’انتہائی خطرناک درجے‘ کا طوفان ہی قرار ديا جا رہا ہے۔ طوفان کے سبب دو سو دس کلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائيں چل رہی ہيں۔ اتوار کے روز جيسے جيسے يہ سائيکلون آندھرا پرديش اور اڑيسہ کی رياستوں کی جانب مزید بڑھے گا، اس کا زور بھی ٹوٹ جائے گا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق پائیلن ہفتہ کی شام بھارت کی مشرقی ساحلی رياستوں سے ٹکرايا۔ اگرچہ فلاحی کام کاج کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ نقصانات کا درست اندازہ اس طوفان کے اتر جانے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا تاہم ابتدائی رپورٹوں کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک بیس افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ چار لوگ درخت گرنے سے جب کہ ايک خاتون مٹی سے بنے ہوئے اپنے مکان کی ايک ديوار گرنے کے سبب ہلاک ہوئی ہے۔

طوفانی ہواؤں سے کئی علاقوں ميں بجلی کی ترسيل بھی منقطع ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پيمانے پر درختوں، مکانات اور بجلی کی کھمبوں کے گرنے کی بھی اطلاعات ہيں۔ ديہات کے رہنے والوں نے يہ بھی بتايا ہےکہ ساحلی علاقوں ميں سمندری پانی کافی آگے تک آ گيا ہے اور اس سبب متعدد علاقے زير آب آ گئے ہيں۔ خدشہ ہے کہ پائیلن کے نتیجے میں بھارت کو اس کے ساحلی زرعی علاقوں اور ماہی گیروں کے دیہات میں شدید ترین تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

درايں اثناء قدرتی آفات سے نمٹنے والے بھارتی محکمے کے کارکنان نے بتايا کہ اس طوفان کی راہ ميں قريب بارہ ملين افراد تھے اور اب تک قريب ساڑھے پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کو عارضی طور پر اسکولوں اور مندروں وغيرہ ميں منتقل کيا گيا ہے اور نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اتنی زيادہ تعداد ميں لوگوں کی منتقلی کا يہ بھارتی تاريخ کا سب سے بڑا آپريشن ہے۔

نيشنل ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی کے وائس چيئرمين ششی دھر ريڈی نے دارالحکومت نئی دہلی ميں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتايا کہ طوفان کی شدت کے سبب زيادہ تر پراپرٹی کو ہی نقصان پہنچا۔ ان کے بقول انسانی جانوں کا کم سے کم ضياع ہونا ان کی اولين ترجيح ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے اسی علاقے ميں چودہ سال قبل آنے والے ايک ايسے ہی سمندری طوفان کے سبب دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی حکام کو توقع ہے کہ بہتر حفاظتی تدابير اور اقدامات کے سبب اس بار انسانی ہلاکتوں کی تعداد کافی کم رہے گی۔