.

ہزاروں کلومیٹر پیدل سفر کے بعد پاکستانی حاجی مکہ پہنچ گیا

مکہ آمد پر امام کعبہ کے نمائندے سمیت پاکستانیوں نے شاندار استقبال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان سے تعلق رکھنے والا شہری کھرل زادہ کسرت رائے حج ادا کرنے کے لئے 6387 کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ سینتیس سالہ پاکستانی شہری اپنے غیر معمولی سفر کے دوران ایران، عراق اور اردن کے راستے ہوتا ہوا یکم اکتوبر کو مکہ پہنچا۔ مکہ میں پاکستانی کیمونٹی اور دیگر مسلمان ممالک کے حامیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر سعودی حکام اور امام کعبہ کے نمائندے بھی موجود تھے۔

العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے لمبے مگر منفرد سفر کے بعد حجاز مقدس پہنچنے والے پاکستانی شہری کا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سفر کا آغاز تین ماہ قبل کراچی سے کیا۔ وہ اس سے پہلے بھی امن کی اہمیت اجاگر کرنے کی خاطر دو مرتبہ لانگ مارچ کر چکا ہے۔ رائے کے بقول اس کا پیدل حج کی غرض سے مکہ مکرمہ آنے کا مقصد یہی تھی کہ وہ دنیا کو امن کا پیغام دینا چاہتا تھا اور اپنی اس کاوش کے ذریعے ہر سطح پر دہشت گردی کی مذمت کرنا چاہتا تھا۔ بقول رائے: "میں دنیا میں امن او مساوات چاہتا ہوں۔ میں یورپی یونین کی طرز پر مسلم دنیا کا اتحاد چاہتا ہوں۔"

سن دو ہزار سات کو انہوں نے کراچی سے خیبر تک 1242 میل طویل امن مارچ کیا، جسے انہوں نے 85 دنوں میں مکمل کیا۔ سن دو ہزار نو میں وہ اپنے امن مشن کی حمایت میں اسلام آباد سے لاہور تک مارچ پر نکلے، تین سو ستائیس کلومیٹر طویل اس سفر کو انہوں نے دنوں میں مکمل کیا۔ اس کے بعد رائے نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے آزاد کشمیر کے سرحدی علاقے چکوٹھی تک 138 میل طویل سفر نو دنوں میں مکمل کیا۔

حجاز مقدس کے لئے اپنے پیدل سفر کی روداد سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں دوران سفر غیر متوقع مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ "میرا یہ سفر پرخطر بھی تھا تاہم وہ امن کے گہوارے مکہ مکرمہ میں پہنچ کر خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ سفر کے دوران انہیں ملنے والے افراد 'دوستانہ' تھے، جنہوں نے ان کی بڑی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ پہنچنے پر انہیں سعودی حکام نے رہائش و دیگر سہولیات فراہم کی ہیں۔ رائے نے بتایا کہ وہ اتوار سے شروع ہونے والے حج کی عبادت کے لئے مکہ سے آٹھ کلومیٹر دور منی جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔