.

عیسائی اخبار ''اللہ'' کا لفظ استعمال نہ کرے: ملائشین عدالت

عیسائیت کے عقائد اور عبادات میں '' اللہ '' کا لفظ استعمال نہیں ہوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کی ایک اپیل کورٹ نے غیر مسلموں کو لفظ '' اللہ '' کے استعمال سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ عیسائیت کے عقائد اور عبادات میں کہیں بھی اللہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے نہ یہ ایک اٹوٹ حصے کے طور پر موجود ہے، اس لیے یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک کیتھولک اخبار کیوں اس کیلیے اس قدر پر جوش ہے ۔''

فیصلہ دینے والی تین ججوں پر مشتمل ملائشین عدالت کے سربراہ محمد آفندی علی ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ''غیر مسلم اللہ کے بجائے '' گاڈ '' کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے عیسائی کمیونٹی کی اس اپیل کو مسترد کیا جاتا ہے کہ انہیں '' اللہ '' کا لفظ استعمال نہ کرنے دینے سے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔''

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ '' اس فیصلے سے غیر مسلموں کے آئینی حقوق میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی ہے، ۔۔۔ مسیحی اخبار میں لفظ '' اللہ '' لکھنے سے الجھن پیدا ہو سکتی ہے ۔''

واضح رہے ملائشیا کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہ مجموعی آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں کی آبادی نو فیصد ہے۔ لیکن ایک کیتھولک عیسائی اخبار کے ایڈیٹر لارنس انڈریو کچھ عرصے سے اپنے اخبار میں لفظ اللہ لکھ رہے ہیں۔ جسے مقامی مسلمانوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عیسائی مدیر کا موقف ہے کہ انہیں'' اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔'' لارنس اینڈریو کے مطابق ''عدالتی فیصلہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔''

اس معاملے پر ملائشیا میں 2008 سے ایک بحث چل رہی تھی ۔ تاہم اس فیصلے سے بھی یہ بحث ختم ہوتی نظر نہیں آتی ہے اور آئندہ دنوں اس کے جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس سے پہلے 2009 ٘میں ملائشیا کی ایک عدالت نے اس بارے میں فیصلہ کیتھولک عیسائیوں کے حق میں دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف جنوری 2010 میں اپیل دائر کی گئی جس کا فیصلہ پیر کے روز سامنے آیا ہے۔