سیکولر ترکی" کے قیام کے بعد عبداللہ گل کا پہلے صدر کی حیثیت سے حج

امسال حج کرنے والوں میں پاکستان، موریتانیہ اور سوڈان کے صدور بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حسب سابق رواں موسم حج میں بھی عالم اسلام کی کئی با اثرسیاسی شخصیات مناسک حج کی ادائی کے لیے حجاز مقدس میں ہیں۔ ان میں پاکستان کے صدر ممنون حسین، موریتانیہ کے محمد ولد عبدالعزیز، سوڈان کے محمد عمرالبشیر اور ترکی کے صدرعبداللہ گل شامل ہیں۔

مصطفیٰ کمال اتا ترک کے ہاتھوں ملک کو "سیکولر ریاست" بنائے جانے کے بعد عبداللہ گل ملک کےپہلے صدر ہیں جو فریضہ حج ادا کرنے گئے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ ترکی میں رواں ماہ کی 29 تاریخ کو جدید سیکولر کے نوے سال پورے ہونے کی تقریبات منائے جانے کی تیاریاں پورے زور و شور سے جاری ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے بعد عبداللہ گل سیکولر ریاست کے گیارہویں صدر ہیں، جو اس سال خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پرحج کے لیے حجاز مقدس پہنچے ہیں۔ جدید ترکی کے صدر کی حیثیت سے فریضہ حج کی ادائی کا اعزاز صرف عبداللہ گل کو ملا ہے۔ ماضی میں لا دین ذہنیت کے حامل صدور فریضہ حج کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔

ترک صدر عبداللہ گل اپنے ملک کے اعلٰی عہدیداروں پر مشتمل وفد کے ہمران مدینہ منورہ میں شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پراترے، جہاں انہوں نے کچھ دیر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پربھی حاضری دی۔ وہآں سے خصوصی طیارے کے ذریعے جدہ اور پھر مکہ مکرمہ پہنچے ہیں۔ مناسک حج کی ادائی کے بعد 18 اکتوبر کو صدرعبداللہ گل وطن واپس پہنچیں گے۔

جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتا ترک نے جن سیکولرخطوط پر نئی ریاست کی بنیاد رکھی تھی اس میں مذہب یا مذہبی تعلیمات کی پابندی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تاہم خلافت عثمانیہ کا مرکز رہنے والے اس ملک کے باشندوں کے دلوں سے اسلام کو کھرچ کرنکالنے کی تمام کوششیں اکارت گئی ہیں۔ اسلام پسند سیاسی جماعت "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" کا بار بار برسراقتدار آنا اور سیکولرطبقات کی سیاسی شکست اس کے واضح ثبوت ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اب ترکی "جدید سیکولر ریاست" کے بجائے"جدید اسلامی جمہوری ریاست" کی طرف بڑھ رہا ہے۔

گو کہ جدہ میں متعین ترک قونصل جنرل "فکرت اوزر" نے اخبار"الحیاۃ" کو انٹرویو میں کہا کہ صدر عبداللہ گل کے حج کرنے سے ملک کی سیکولر روایات تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ترکی کی بنیاد ہی سیکولرزم ہے۔ جدید دور میں ایک نئی اور مثبت تبدیل ضرور آئی ہے وہ یہ کہ سیکولر ازم مذہب بیزار نظام نہیں ہے اور نہ ہی وہ افراد معاشرہ کو عبادات اور مناسک حج کی ادآئی سے روکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں