اللبی کی عدالت میں پیشی، اقبالِ جرم سے انکار

امریکی حکام نے بحری جہاز پر اللبی سے تفتیش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا سے تعلق رکھنے والے مشتبہ دہشت گرد، ابو انس اللبی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ اُن پر 1998ء میں مشرقی افریقہ میں امریکا کے دو سفارت خانوں پر بم حملوں کا الزام ہے۔ انہیں گذشتہ روز نیو یارک کی ایک عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے، اللبی کو امریکی خصوصی افواج کی طرف سے پانچ اکتوبر کو طرابلس میں ہونے والی ایک کارروائی کے دوران پکڑ لیا گیا تھا، اُسے امریکی بحریہ کے جہاز پر حراست میں رکھے جانے کے بعد، پیر کو نیو یارک منتقل کیا گیا۔

اللبی پر، جِن کا پورا نام نازح عبد الحامد الرقئی ہے، اُن کے خلاف ایک عشرے سے زائد عرصے سے نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں الزامات عائد ہیں۔ اُن پر مبینہ طور پر کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے بم حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

سنہ 1998 کے اِن حملوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جِن میں 12 امریکی بھی شامل ہیں۔ یہ مشتبہ شخص ایف بی آئی کی طرف سے جاری کی گئی فہرست میں اشتہاری دہشت گردوں میں صف اول کے ملزم ہیں۔ اللبی کے اہل خانہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں کہ اُن کا القاعدہ سے تعلق ہے۔ یاد رہے کہ امریکی بحریہ کے جہاز پر حراست کے دوران، انٹیلی جنس اہل کاروں نے اللبی سے تفتیش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں