روحانی کی صدارت میں عالمی طاقتوں سے مذاکرات کا نیا منصوبہ پیش

آشٹن مذاکرات میں سیکیورٹی کونسل اور جرمنی کی نمائندگی کر رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنیوا میں عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک نیا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔

نئے ایرانی صدر حسن روحانی کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان یہ پہلے مذاکرات ہیں۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین آشٹن کے ترجمان میشائیل من نے منگل کے روز جنیوا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد صحافیوں کے بات چیت میں اس امید کا اظہار کیا کہ تہران حکومت اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنائے گی۔ واضح رہے کہ کیتھرین آشٹن ان مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

اگست میں ایرانی مسند صدارت پر براجمان ہونے والے حسن روحانی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری ایرانی جوہری تنازعے کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلےمیں گزشتہ کچھ عرصے میں کئی دہائیوں کے تعطل کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے ایک مرتبہ پھر بحال ہوئے ہیں۔

اس سے قبل اپریل میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں تہران حکومت کو پیشکش کی گئی تھی کہ اگر وہ یورینیئم کی افزودگی روک دے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید شفافیت کا مظاہرہ کرے تو اس کے خلاف عائد پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس پیشکش کا جواب ایران کی جانب سے سامنے نہیں آیا تھا۔

کیتھرین آشٹن کے ترجمان میشائیل مَن نے ایرانی وزیرخارجہ کی جانب سے جنیوا میں دی گئی بریفنگ کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں، تاہم کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں شریک ماہرین نے ان تجاویز کا جائزہ لیا۔ مَن نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب واقعی اس سلسلے میں واضح نتائج سامنے آنے کا وقت ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں رہے، لیکن اب اس بابت پیش رفت ہونا چاہیے۔

مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے کہا کہ مذاکرات کا ماحول انتہائی مثبت ہے، جس کی انہیں خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک کو خدشات ہیں کہ ایران افزودہ کی گئی یورینیئم کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کر سکتا ہے جب کہ ایران اصرار کرتا ہے کہ وہ افزودہ یورینیئم کو جوہری ری ایکٹروں میں سویلین مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی طور پر کوئی جزوی معاہدہ نہ کیا جائے۔ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے منگل کے روز بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے کے علاوہ کسی طرح کی کوئی ڈیل ایران پر عائد سخت پابندیوں کے اثرات کو تباہ کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں