عالمی یوم خوراک:دنیا بھر میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد بڑھ گئی

شام جیسے تنازعات پر میڈیا کی زیادہ توجہ سے عالمی فنڈز کا رُخ موڑدیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی سربراہ ارتھیرین کزن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جن تنازعات پر میڈیا کی زیادہ توجہ مرکوز ہے،وہاں فنڈز کا رخ موڑ دیا گیا ہےجبکہ دوسرے دیرینہ تنازعات اورانسانی بحران کا شکار علاقوں کو فراموش کردیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو عالمی یوم خوراک کے موقع پر اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے روم میں واقع ہیڈکوارٹرز میں ایک انٹرویو کے دوران کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم ان تنازعات کو فراموش نہ کریں جن پر میڈیا کی توجہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ خوراک کا بحران صرف ان ممالک کو متاثر نہیں کرتا جہاں لوگ بھوک کا شکار ہیں بلکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے۔انھوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ خوراک دنیا بھر میں تنازعات کا شکار بیس ممالک کے نو کروڑ ستر لاکھ افراد کو خوراک مہیا کررہا ہے۔ان میں افغانستان ،ہیٹی اور سوڈان جیسے بحران زدہ ممالک بھی شامل ہیں۔

ادارے کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہماری ضروریات ہمیں ملنے والے فنڈز سے زیادہ ہوتی ہیں اور اس وقت بھی ہمیں ایک ارب ڈالرز کی کمی کا سامنا ہے۔آیندہ سال ان فنڈز اور ضروریات میں فرق مزید بڑھ جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ خوراک شام میں پہلے اندرون ملک دربدر ڈیڑھ لاکھ افراد کو خوراک مہیا کررہا تھا لیکن اب یہ تعداد ساٹھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔شام اور اس کے گردونواح میں عالمی خوراک پروگرام کو ایک ہفتے میں شامیوں کو خوراک مہیا کرنے کے لیے تین کروڑ دس لاکھ ڈالرز درکار ہوتے ہیں۔

ارتھیرین کزن نے یمن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پچاس لاکھ یمنی بھوک کا شکار ہیں جبکہ نصف یمنی بچے کم خوراکی کا شکار ہیں لیکن شام پر میڈیا کی زیادہ توجہ مرکوز ہونے کی وجہ سے یمن اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن پھر بھی ان کی تعداد چوراسی کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔عالمی ادارہ خوراک کا سالانہ بجٹ پانچ ارب ڈالرز ہے اور اس نے گذشتہ سال خوراک کی ہنگامی بنیاد پرخریداری پرایک ارب بیس کروڑ ڈالرز خرچ کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں