.

امريکا: سياسی تعطل کے خاتمے کے ليے کانگریس ميں ڈيل منظور

منصوبے کے حق ميں 81 اور مخالفت ميں صرف 18 ووٹ ڈالے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امريکی کانگریس نے ملک ميں جاری سياسی تعطلی اور اس کے نتيجے ميں وفاقی حکومت کی عارضی بندش کے خاتمے کے ليے ايک ڈيل کی منظوری دے دی ہے، جس کے ذريعے اب رياستی ادارے دوبارہ کھل سکيں گے۔

اس ڈيل کے تحت اگلے برس پندرہ جنوری تک کے ليے حکومت کی فنڈنگ اور حکومتی قرضوں کی مدت ميں آئندہ سال سات فروری تک کی توسيع کر دی گئی ہے۔ سينيٹ ميں اس منصوبے کے حق ميں اکياسی اور مخالفت ميں صرف اٹھارہ ووٹ ڈالے گئے تھے۔ سينيٹ سے منظوری کے بعد اب اس منصوبے کو ايوان نمائندگان نے بھی منظور کر لیا ہے۔ صدر اوباما کے دستخط کے ساتھ ہی اسے مکمل قانونی حیثیت مل رہی ہے۔

واضح رہے کہ يہ پيش رفت مقامی وقت کے مطابق سترہ اکتوبر کی ڈيڈ لائن سے کچھ ہی گھنٹے قبل ہوئی۔ اگر ايسا نہ ہوتا تو سترہ اکتوبر سے ملکی وزارت خزانہ ديواليہ پن کی جانب بڑھ رہی تھی اور وہ اپنے ذمے رياستی بلوں کی ادائيگياں نہيں کر پاتی۔ يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ يہ ايک عارضی حل ہے اور اگلے برس امريکی انتظاميہ کو اسی طرز کے ’شٹ ڈاؤن‘ کا دوبارہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کيونکہ ڈيموکريٹس اور ری پبلکنز کے مابين اخراجات اور خسارے سے متعلق بنيادی اختلافات اب تک حل نہيں ہو پائے ہيں۔

امریکا میں جاری اس مالیاتی بحران کی وجہ سے تمام وفاقی ادارے يکم اکتوبر سے جزوی بندش کا شکار ہیں جب کہ حکومتی قرضوں کی کم سے کم حد کے تعین کے سلسلے میں حکمران ڈیموکریٹ اور ری پبلکن سیاستدانوں کے مابين سياسی رسہ کشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بدھ کو ہونے والی پيش رفت کے بعد تمام وفاقی ادارے دوبارہ فعال ہو جائيں گے ليکن نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق اس ميں کچھ دن لگ سکتے ہيں۔

دارالحکومت واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق صدر اوباما کا اس بابت کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر بل پر دستخط کر ديں گے تاکہ وفاقی اداروں کو کھولا جا سکے اور ديواليہ پن کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ صدر اوباما نے اس سلسلے ميں سينيٹ کا شکريہ بھی ادا کيا تھا۔ ايسی اطلاعات بھی ہيں کہ وہ آج جمعرات کے روز مالياتی بحران کے حوالے سے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے ميں بات کريں گے۔

ڈيل کی خبريں سامنے آنے کے بعد امريکی بازار حصص ميں بھی زبردست اضافہ ديکھا گيا اور مارکيٹوں پر اس کا کافی مثبت اثر پڑھا۔