.

ترکی:ایران کی جاسوسی کرنے والے اسرائیلی رنگ کا انکشاف

ترک وزیراعظم نے 2012ء میں ایران کو اسرائیل کے جاسوسی نیٹ ورک کی اطلاع دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے ؁ 2012ء کے آغاز میں ایران میں کام کرنے والے اسرائیل کے جاسوسی نیٹ ورک کا پتا چلایا تھا اور اس کی ایران کو اطلاع دی تھی۔

اس بات کا انکشاف واشنگٹن پوسٹ میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اسرائیل یا ترکی کی جانب سے فوری طور پر اس رپورٹ کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن اسرائیلی وزراء ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن پر اسرائیل مخالف موقف اختیار کرنے کا الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ مسلم دنیا میں ترکی کا تشخص بہتر ہوسکے۔

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار ڈیوڈ اگناشئیس نے لکھا ہے کہ اسرائیل بظاہرترکی سے باہر ایرانی جاسوسوں کے نیٹ ورک کو بروئے کار لاتا رہا ہے اور اس سے ترکی کو ان جاسوسوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کا موقع ملتا رہا ہوگا۔اخبار نے امریکی حکام کے حوالےسے لکھا ہے کہ ''اسرائیل کو یقین تھا کہ برسوں کے دوطرفہ تعاون کے بعد ترکی اس کا مخالف نہیں ہوگا''۔

لیکن ؁ 2012ء کے آغاز میں رجب طیب ایردوآن نے ایران کو ترکی کا سفر کرنے والے دس ایرانیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔انھوں نے ترکی میں اسرائیلی جاسوسوں سے ملاقات کی تھی۔اپریل 2012ء میں ایران نے اسرائیل کے ایک بڑے جاسوسی نیٹ ورک کو توڑنے کا انکشاف کیا تھا اور پندرہ مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ ان گرفتاریوں کا ترکی کے انکشاف سے بھی کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

ایران ایک عرصے سے اسرائیل پر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق سرگرمیوں کی جاسوسی کا الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے اسرائیل پر اپنے جوہری سائنسدانوں کو پراسرار انداز میں قتل کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔انھی میں سے ایک ایرانی سائنسدان کو جنوری 2012ء میں دارالحکومت تہران میں پراسرار انداز میں بم دھماکے میں قتل کردیا گیا تھا۔

مصالحت کی ناکام کوشش

اسرائیل کے نائب وزیرخارجہ ضیف ایلکن نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بہت ہی پیچیدہ ہیں۔

انھوں نے اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ترکوں نے ہمارے خطے یعنی مشرق وسطیٰ کی قیادت کے لیے ایک تزویراتی فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اسرائیل مخالف کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا''۔

اسرائیل کے وزیرتوانائی سلوان شالوم نے بھی امریکی اخبار کی رپورٹ پر تبصرے سے انکار کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ؁ 2011ء میں عرب دنیا میں اتھل پتھل کے بعد ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے نئے انقلاب کا غیرمتنازعہ لیڈر بننے کی کوشش کی ہے۔

اسرائیل اور ترکی کے درمیان ؁ 2010ء سے قبل قریبی سفارتی اور فوجی تعلقات استوار تھے لیکن اسی سال اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی جہازوں کے قافلے پر حملہ کردیا تھا جس میں نو ترک رضا کار شہید ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اپنے اتحادی ترکی اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کے لیے کئی مرتبہ کوشش کی ہے اور اس سال مارچ میں صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے فون پر گفتگو کرنے اوران سے ؁ 2010ء میں ترک رضاکاروں کی ہلاکت کے واقعہ پر معذرت کے لیے کہا تھا۔تاہم دونوں ممالک کے حکام جاں بحق ترک رضاکاروں کے خاندانوں کو معاوضے کی ادائی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

یادرہے کہ غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کے دوران اس تشدد آمیز واقعے کے کچھ عرصے کے بعد تب اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک نے کہا تھا کہ ''ترکی ایران کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ رازوں کا تبادلہ کرسکتا ہے اور یہ امر ہمارے لیے پریشان کن ہے''۔